1️⃣ انجینیئر محمد علی مرزا امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
’’ ہمارا یہ عقید ہے کہ اگر ہم حضرت علی رضي الله عنه کے زمانے میں ہوتے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضي الله عنه کے خلاف حضرت علی کی حمایت میں قتال کرتے، جنگ لڑتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ــ‘‘❌
🔘تبصرہ:
یہ بیان بعض لوگوں کے لیے حساس ہو سکتا ہے، اس لیے چند نکات ذہن میں رکھنا ضروری ہیں:
تاریخی پس منظر: حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان واقعہ جمل اور صفین کے جنگیں سیاسی اور حکومتی اختلافات کی وجہ سے ہوئیں۔ صحابہ کرامؓ اس میں شامل ہوئے لیکن ہر شخص کے پاس اپنی بصیرت اور حالات کے مطابق فیصلہ کرنے کا موقع تھا۔
امام ابو حنیفہؒ کا موقف: فقہ حنفی میں امام ابو حنیفہؒ نے ہمیشہ اجتہاد، انصاف اور علم پر زور دیا۔ ان کا یہ مفروضی بیان (اگر صحیح ہے) کسی ذاتی مخالفت یا کسی کی بدنامی کے لیے نہیں بلکہ فقہی اور نظریاتی حوالہ سے سمجھا جانا چاہیے۔
علمی اور فقہی احتیاط: کسی بھی صحابی رسولؐ کے بارے میں الزام لگانا یا قیاس آرائی کرنا اسلامی اصول کے مطابق درست نہیں۔ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ دونوں صحابہ رسولؐ ہیں، اور ان کے تعلقات اور اختلافات کو پروپیگنڈہ سے نہیں دیکھنا چاہیے۔
اقوال کی صحت: یہ ضروری ہے کہ کسی بھی بیان کو تاریخی اور فقہی حوالہ کے ساتھ دیکھا جائے۔ انجینیئر محمد علی مرزا کے بیانات بعض اوقات ذاتی تشریح اور تجزیے پر مبنی ہوتے ہیں، اس لیے انہیں معتبر تاریخی کتب اور مستند فقہی حوالہ جات کے ساتھ ملانا ضروری ہے۔
اس کو انجینیئر محمد علی مرزا نے امام أبو شكور محمد بن عبد السيد بن شعيب الكشي السالمي الحنفي (المتوفى:٤٦٠هـ) کی کتاب ’’التمهيد في بيان التوحيد‘‘ سے نقل کیا ہے۔
📓[ تمہید ابو شکور سالمی (اردو)، ص:٣٧٠-٣٧١، التمهيد في بيان التوحيد (عربی) ص: ١٨٣ ]
امام أبو شكور نے اس کو امام ابو حنیفہؒ سے بغیر کسی سند کے روایت کیا ہے اور بے سند روایت مردود ہوتی ہے۔
🔖اب ہمارا سوال ہے انجینیئر محمد علی مرزا اور ان کے مقلدین سے کہ اس کی سند ڈھونڈ کر دکھا دو اور صحیح سند کے ساتھ اس کو امام ابو حنیفہؒ سے ثابت کرو؟؟؟؟
🔖انجینیئر محمد علی مرزا کے جھوٹ کی انتہا تو دیکھو کہتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہ سے ثابت کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
2️⃣ انجینیئر محمد علی مرزا نے دوسرا حوالہ أبو محمد عبد الله بن محمد الحارثي (المتوفى:٣٤٠هـ) کی کتاب ’’كشف الآثار الشريفة في مناقب الإمام أبي حنيفة‘‘ سے نقل کیا ہے۔جس کی پوری سند یہ ہے:
🔗’’ حدثت عن حم بن نوح البلخي قال سمعت سلم بن سالم قال سمعت بكير بن معروف يقول سمعت أبا حنيفة۔۔۔۔۔۔۔‘‘
🔘تبصرہ:
اس کی سند میں سَلْمُ بنُ سَالِمٍ البَلْخِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ ضعیف ہے:
{١} قَالَ أَحْمَدُ بنُ حَنْبَلٍ: سلم بن سالم يعني البلخي ليس بذاك في الحديث كأنه ضعفه۔[العلل ومعرفة الرجال لأحمد (3/ 144)]
{٢}وَقَالَ ابْنُ مَعِيْنٍ: سلم بن سالم البلخى ليس بشئ. [الجرح والتعديل (8/ 268)]
{٣}وقال ابا زرعة: لا يكتب حديثه، كان مرجئا وكان لا - وأومى بيده إلى فيه - يعنى لا يصدق.[الجرح والتعديل (8/ 268)]
{٤}وقال أبو حاتم: سلم بن سالم ضعيف الحديث وترك حديثه، ولم يقرأه علينا.[الجرح والتعديل (8/ 268)]
{٥}وقال ابن المبارك:اتق حيات سلم بن سالم لا تلسعك.وذكر عنده حديث لسلم بن سالم فقال: هذا من عقارب سلم.[الجرح والتعديل (8/ 268)]
{۶}وَقَالَ النَّسَائِيُّ: ضَعِيْفٌ.[الكامل في ضعفاء الرجال (5/ 348)]
{۷}وقال ابو داود: ليس بشئ.كان مرجئا.أحمد لم يكتب عنه. [سؤالات الآجري (2/ 298)]
{۸}وقَالَ ابْنُ سَعْدٍ: وكان مرجئا ضعيفا في الحديث ولكنه كان صارما يأمر بالمعروف۔ [الطبقات الكبرى ابن سعد (6/ 199)]
{۹}وقال السعدي: سلم بن سالم البلخي غير ثقة۔[الكامل في ضعفاء الرجال (5/ 348)]
{۱۰}وقال جوزجانى:سلم بن سالم البلخي غير ثقة۔[أحوال الرجال للجوزجانى (ص: 24)]
{۱۱}و ذكره الدارقطني في ((الضعفاء والمتروكين)) (262)
{۱۲}و ذكره العقيلي في ((الضعفاء الكبير)) (3/ 164)
{۱۳}و ذكره ذهبي في ((المغني في الضعفاء)) (ص: 129)
{۱۴}وقال ابن الجوزي: هذا حديث لا يصح قال يحيى سلم بن سالم ليس حديثه بشيء وكان ابن المبارك يكذبه وقال ابو زرعه لا يكتب حديثه وقال السعدي غير ثقة۔[العلل المتناهية لابن الجوزي (3/ 526)]
{۱۵}وقال الخليلي: اجمعوا على ضعفه۔ [لسان الميزان لأحمد العسقلاني (3/ 47)]
{۱۶}وقال ابن حجر : وقد اتفق المحدثون على تضعيف رواياته۔[لسان الميزان لأحمد العسقلاني (3/ 47)]
{۱۷}وقال السيوطي: سلم بن سالم كذاب۔[اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة (3/ 370)]
📝خلاصہ: جو کچھ بھی انجینیئر محمد علی مرزا نے کہا ہے اس بارے میں امام ابو حنیفہؒ سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے۔اصل میں محمد علی مرزا کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضي الله عنه کے بارے میں اپنے بغض کا اظہار کرنا ہوتا ہے، اس کو بس حضرت معاویہ (رضي الله عنه) کے خلاف کچھ ملنا چاہیے، چاہے وہ صحیح ہو یا غلط اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے


0 Comments