تقلید ِشخصی کا حکم رسول اﷲﷺسے
’’عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "إِنِّي لَا أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيكُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي"، وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَر‘‘۔ ’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے نہیں معلوم کہ کب تک میں تم لوگوں میں ہوں۔ لہذا میرے بعد تم ابوبکر (رضی اللہ عنہ) اور عمر (رضی اللہ عنہ) کی پیروی کرنا‘‘۔ (جامع الترمذي: كِتَاب الدَّعَوَاتِ:أبوابُ الْمَنَاقِبِ: بَاب فِي مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ: رقم الحديث:٣٧٦٥،٣٧٩٩)
"من بعدی"سے مراد ان صاحبانؓ کادورِ خلافت ہے، کیوں کہ بلاخلافت تو دونوں صاحبان ؓ آپ ﷺ کے روبرو بھی موجود تھے۔ پس مطلب یہ ہوا کہ ان کے خلیفہ ہونے کی حالت میں ان کی اتباع کیجیو اور ظاہر ہے کہ خلیفہ ایک ایک ہوں گے۔ پس حاصل یہ ہوا کہ حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کی خلافت میں تو ان کا اتباع کرنا، حضرت عمر رضی الله عنہ کی خلافت میں ان کا اتباع کرنا، پس ایک زمانہ خاص تک ایک معین شخص کی اتباع کا حکم فرمایا اور یہ کہیں نہیں فرمایا کہ ان کے احکام کی دلیل بھی دریافت کرلیا کرنا۔اور نہ یہ عادت مستمرہ (جاریہ)تھی کہ دلیل کی تحقیق ہر مسئلے میں کی جاتی ہو اور یہی تقلیدشخصی ہے۔ کیونکہ حقیقت تقلیدشخصی یہ ہے کہ ایک شخص کو جو مسئلہ پیش آوے وہ کسی مرجح کی وجہ سے ایک ہی عالم سے رجوع کیا کرے اور اس سے تحقیق کروا کے عمل کیا کرےاور خود اس کی تحقیق کو بلادلیل تسلیم کرلے۔
مشہور حدیث ہے: ’’علیکم بسنتی و سنة الخلفاءالراشدین المھد ییین تمسکو ابھا و عضوا علیھا بالنواجذ‘‘۔ ’’میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوط پکڑو اور اس پر دانت جمائے رکھو‘‘۔
اس حدیث میں بھی خلفائے راشدین کے طریقہ و عمل کا لازم پکڑنے کا کتنا تاکیدی حکمہے۔ اس حدیث سے تقلید شخصی کی واضح دلیل ملتی ہے، اس لئے کہ ہر زمانہ میں خلیفہ راشدایک ہی ہو گا، اس لئے ہر زمانہ کے خلیفہ راشد کی تقلید کا حکم دیا جا رہا ہے، اور اسی کا نام تقلید شخصی ہے گویا مسلمانوں پر اس کے زمانہ کے خلیفہ راشد کی تقلید و اتباع واجب اور ضروری ہے۔
آنحضورﷺکا حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ کے بارے میں ارشاد ہے: ’’قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: رضيت لكم ما رضي لكم ابن أم عبد‘‘۔ ’’جو طریقہ و عمل تمہارے لئے حضرت عبداﷲ بن مسعودرضی اﷲعنہ پسند فرمائیں میں اس پر راضی ہوں‘‘۔ (المستدرک علی الصحیحین: كتاب معرفة الصحابة رضی الله تعالى عنهم، رقم الحدیث۵۴۴۵)
حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ کے بارے میں آنحضور ﷺ کی اس وزنی شہادت کے بعد کون شخص ہو گا جو یہ کہےگاکہ ان کی تقلید و اتباع حرام ہے۔
عہد صحابہرضی الله عنہم اجمعین میں تقلید ِشخصی کا حکم
’’حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ أَتَانَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِالْيَمَنِ مُعَلِّمًا وَأَمِيرًا، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ رَجُلٍ، تُوُفِّيَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَأُخْتَهُ، فَأَعْطَى الاِبْنَةَ النِّصْفَ وَالأُخْتَ النِّصْفَ‘‘۔ ’’أسود بن يزيد سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ ہمارے پاس معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن میں معلم اور امیر ہو کر آئے تو ہم نے ان سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو فوت ہوگیا اور ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑ کر گیا تو انہوں نے بیٹی کو نصف اور بہن کو نصف دلایا‘‘۔ (صحيح البخاری: كِتَاب الْفَرَائِضِ، بَاب مِيرَاثِ الْبَنَاتِ، رقم الحديث: ٦٢٦٧، ٦٢٣٤)
اس حدیث سے یہ بات واضح معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللهﷺکے زمانہ مبارک میں تقلید جاری تھی، کیونکہ تقلید کہتے ہیں ’’کسی کا قول محض اس حسن ظن(اعتماد) پر مان لینا کہ یہ "دلیل" کے موافق بتلادےگا اور اس سے دلیل کی تحقیق نہ کرنا‘‘۔اسی طرح تقلیدشخصی بھی ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ جب رسول الله ﷺنے تعلیم احکام کے لئے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویمن بھیجا تو يقينا ًاہل یمن کو اجازت دی کہ ہر مسئلے میں ان سے رجوع کریں اور یہی تقلیدشخصی ہے۔سو قصہ مذکورہ میں گویا جواب قیاسی نہیں سو اس وجہ سے ہم نے اس سے جوازقیاس پر استدلال نہیں کیا لیکن سائل نے تو دلیل دریافت نہیں کی اور ان کے محض تدین کے اعتماد پر قبول کرلیا اور یہی تقلید ہے اور یہ حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ خود رسول اللهﷺکے بھیجے ہوئےہیں۔پھر اس جواب کے اتباع پر جو کہ رسول اللهﷺکی حیات میں تھا، نہ حضور سے انکار ثابت نہ کسی سے اختلاف اور رد منقول۔پس اس سے "جوازتقلید" کا اور حضورﷺ کی حیات میں اس کا بلا نکیر شایع ہونا ثابت ہوگیا۔
عہد صحابہ رضی الله عنہم اجمعین میں تقلید ِشخصی کی مثال
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي الأَوْزَاعِيُّ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ أَصَابَ رَجُلاً جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ احْتَلَمَ فَأُمِرَ بِالاِغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ"قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ"۔ ’’عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کو زخم لگا، پھر اسے احتلام ہو گیا، تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ انہیں مارے، کیا لاعلمی کا علاج مسئلہ پوچھ لینا نہیں تھا؟“۔ (سنن أبی داود: كِتَاب الطَّهَارَةِ: بَاب فِي الْمَجْرُوحِ يَتَيَمَّمُ، رقم الحديث: ٢٨٤،٣٣٦)
مندرجہ بالا حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کسی شرعی مسئلےمیں ناواقفیت کے سبب کسی جاہل سے رجوع کرنانقصان کا باعث بنتا ہے اس لئے جو لوگ اہل اجتہاد میں سے نہیں ہیں تو ان پر تقلید ہی فرض ہے۔جیسے نابینا، جس کے پاس ذریعہ علم نہیں ہے تو قبلے کے سلسلے میں اس کو کسی دیکھنے والے(بینا) کی بات ماننی ہوگی۔ میراغیر مقلد ین حضرات سے سوال ہے کہ کیا کسی نابینا شخص پر تقلیدِ شخصی جائز ہے؟اگر نہیں تو پھر ایسا شخص اپنے دینی مسائل کس طرح حل کرےگا؟
اگر عالم کے فتوے پر عامی شخص کےلئے دلیل کی تحقیق واجب ہوتی توعالم کے غلط فتوے پر وہ بھی گناہگار ٹھہرتا
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ - عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "مَنْ أَفْتَى"۔ ح وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي نُعَيْمَةَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الطُّنْبُذِيِّ - رَضِيعِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ - قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ"۔"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس شخص نے (کسی کو) بغیر علم کے فتوی دیا تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہوگا"۔)رواۃ ابو داؤد: جلد نمبر ۳، صفحہ نمبر ۸۵۴، رقم الحدیث ۳۶۵۷)
اگر تقلید جائز نہ ہوتی اور کسی عالم کے فتوے پرعامی کو (دلیل پہچانے بغیر) عمل کرناجائز نہ ہوتا ؟تو گناہگار ہونے میں مفتی کی کیا تخصیص تھی؟ جیسا کہ بنی کریم ﷺ کےارشاد سے بات واضح ہوگئی۔ اگرعامی پر عالم کی تقلید جائز نہ ہوتی توجس طرح مفتی کو غلط فتویٰ بتانے کا گناہ ہوتا ہے اسی طرح سائل (عامی شخص)کو دلیل کی تحقیق نہ کرنے کا گناہ ہوتا۔پس جب شارع عليه السلام نے باوجود دلیل کی تحقیق نہ کرنے پر عامی شخص کو (گناہگار) نہیں ٹھہرایا تو جوازتقلید يقينا ًثابت ہوگیا۔
صحابہ کرام رضی الله عنھم کاحضرت عمررضی الله عنہ سے مسئلہ پوچھنا اور دلیل کا تقاضہ نہ کرناتقلید ِشخصی کی بہترین مثال ہے
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ خَرَجَ حَاجًّا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالنَّازِيَةِ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ أَضَلَّ رَوَاحِلَهُ، وَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَوْمَ النَّحْرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: "اصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الْمُعْتَمِرُ، ثُمَّ قَدْ حَلَلْتَ فَإِذَا أَدْرَكَكَ الْحَجُّ قَابِلًا فَاحْجُجْ، وَأَهْدِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ"۔ ’’سلیمان بن یسار سے روایت ہےکہحضرت ابوایوب انصاری رضی الله عنہ حج کرنے کو نکلے جب نازیہ میں پہنچے مکہ کے راستے میں تو وہ اپنی اونٹنیاں کھو بیٹھے اور یوم النحر(دسویں ذی الحجہ) میں جبکہ حج ہو چکا تھا حضرت عمر رضی الله عنہ کے پاس آئےاور یہ سارا قصہ بیان کیا۔آپؓ نے فرمایا: جو عمرہ والا کیا کرتا ہے اب تم بھی وہی کرو، پھر تمہارا احرام کھل جاویگا، پھر جب آئندہ سال حج کا زمانہ آوے تو حج کرو اور جو کچھ میسر ہو قربانی ذبح کرو‘‘۔ (تيسير كلكته: صفحہ نمبر٣١، كتاب الحج، باب حادي عشر، فصل ثالث)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو صحابہ(رضی الله عنھم) اجتہاد نہ کر سکتے تھے، وہ مجتہدین صحابہ (رضی الله عنھم) کی تقلید کرتے تھے، کیونکہ حضرت ابو ایوب انصاری (رضی الله عنہ) بھی صحابی تھے اور انہوں نے حضرت عمر (رضی الله عنہ) سے دلیل فتویٰ کی نہیں پوچھی۔
تقلید شخصی کی دلیل حضرت ابن عمررضی اﷲعنہ سے
’’وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَفْصِ بْنِ خَلْدَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ، يَكُونُ لَهُ الدَّيْنُ عَلَى الرَّجُلِ إِلَى أَجَلٍ فَيَضَعُ عَنْهُ صَاحِبُ الْحَقِّ وَيُعَجِّلُهُ الآخَرُ فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَنَهَى عَنْهُ‘‘۔ ’’حضرت سالم سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ کسی شخص کا دوسرے شخص پر کچھ میعادی دین (قرض) واجب ہے اور صاحب حق (قرض خواہ) اس میں سے کسی قدر اس شرط سے معاف کرتا ہے کہ وہ قبل از میعاد (وقت مقررہ سے پہلے) اس کا دین(قرض) دیدے،(تو یہ طریقہ/عمل کیسا ہے؟)آپ نے اس کو ناپسند فرمایا اور منع فرمایا‘‘۔ (موطأ مالك:كِتَاب الْبُيُوعِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّبَا فِي الدَّيْنِ، رقم الحديث: ١٣٤٦،١٣٧٧))تيسير كلكته: صفحہ نمبر٢٣، كتاب البيع، باب رابع، فروع في الحيوان)
چونکہ اس مسئلہ جزئیہ میں کوئی حدیث مرفوع صریح منقول نہیں، اس لئے یہ حضرت ابن عمررضی الله عنہ کا قیاس ہے اور چونکہ سائل نے دلیل نہیں پوچھی اس لئے اس کا حضرت ابن عمر رضی الله عنہ کے فتوے کو بنا دلیل قبول کرنا تقلید ہے اور حضرت ابن عمررضی الله عنہ کا دلیل بیان نہ کرنا خود تقلید کو جائز رکھتا ہے۔ پس حضرت ابن عمررضی الله عنہ کے فعل سے قیاس وتقلید دونوں کا جواز ثابت ہوگیا۔


تقلید کرنا کیوں ضروری ہے؟
بنیادی عقائداورشریعت کے وہ احکامات جومنصوص اورغیرمتعارض ہیں ان میں تو کسی کی تقلید کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ جیسے عقیدہ توحید، عقیدہ آخرت، ختم نبوت، دن میں پانچ نمازوں کی فرضیت، رمضان کے روزوں کی فرضیت وغیرہ وغیرہ۔ ایسے بنیادی عقائد و شرعی احکامات جو نص قطعی سے ثابت ہیں اوران مسائل میں نصوص آپس میں متعارض نہیں ان میں توتقلید کی ضرورت ہی نہیں پڑتی کیوں کہ وہ سورج کی روشنی کی طرح واضح احکامات ہیں۔ تقلید کی ضرورت تو وہاں پڑتی ہیں جہاں ایک ہی مسئلے پر قرآن و حدیث سے دو احکامات ملتے ہوں، جیسے کسی عمل کے کرنے کا حکم بھی ملتا ہو اور نہ کرنے کا بھی۔ ایسی صورت میں تقلید کیئے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں۔ لہٰذا ایسے فروعی و اختلافی مسائل میں کسی ایک امام کی تقلید کرنی پڑتی ہے۔ مثلاً:
قرآن مجید میں ارشادباری تعالیٰ ہے: ’’حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا‘‘۔ ’’اسے اس کی ماں نے تکلیف سے اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف سے جنا، اور اس کا حمل اور دودھ کا چھڑانا تیس مہینے ہیں‘‘۔ [سورۃ الأحقاف: ۱۵]
اسی طرح دوسری میں اﷲتبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ’’حَـمَلَتْهُ اُمُّهٝ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّفِصَالُـهٝ فِىْ عَامَيْنِ‘‘۔ ’’اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہے ‘‘۔ [سورۃ القمان: ۱۴]
پہلی آیت سے بچے کی مدعت رضاعت ڈھائی سال بنتی ہے، جبکہ دوسری آیت سے مدعت رضاعت دوسال بنتی ہے۔ اب یہاں ایک عام آدمی اس بات کا کیسے فیصلہ کرسکتاہے کہ قرآن کی کونسی آیت قابل عمل واستدلال ہے اور کونسی نہیں؟
اسی طرح حدیث میں آتا ہےکہ: "مسلم نے عبد الرحمٰن بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح کی نماز کا وقت طلوع فجر سے لے کر اس وقت تک ہے جب تک سورج نہ نکلے، جب سورج نکل آئے تو نماز سے رک جائے کہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے"۔ (صحیح مسلم :ج۱، ص۱۴۶)
اوردوسری حدیث میں ہے کہ: "ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر عصر کی نماز کی ایک رکعت بھی کوئی شخص سورج غروب ہونے سے پہلے پا سکا تو پوری نماز پڑھے (اس کی نماز ادا ہوئی نہ قضاء) اسی طرح اگر سورج طلوع ہونے سے پہلے فجر کی نماز کی ایک رکعت بھی پا سکے تو پوری نماز پڑھے"۔ (صحیح بخاری: ج۱، كتاب مواقيت الصلاة، باب مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ الْغُرُوبِ، رقم الحدیث ۵۵۶)
پہلی حدیث میں سورج کے نکلنے پرنماز سے رک جانے کا حکم ملتا ہے جبکہ دوسری حدیث سے سورج نکلنے سے پہلے سجدہ پالینے پر نمازمکمل کرنےکا حکم ملتا ہے، حالانکہ پہلاسجدہ پالینے کے بعدبھی تو سورج کا نکل جانایقینی طورپرممکن ہے۔ توایسی صورت میں ایک عام آدمی حدیث سے کیسے مسئلہ اخذ کرسکتاہے، جبکہ اس میں نہ تومسائل کے استنباط کی صلاحیت ہے اورنہ ہی اجتہادکی اہلیت، لہٰذا ایسے شخص کے لئے کسی مجتہد امام کی تقلید کے سواء کوئی چارہ نہیں۔ بالکل یہی معاملہ رفع الیدین، فارتحہ خلف الامام اوردیگراختلافی مسائل کابھی ہے۔
مجتہدین ومقلدین کے مختلف درجات
شیخ الہند شاہ ولی اﷲمحدث دہلویؒ جواپنے دورکے بلندپایہ محدث بے مثال فقیہہ زبردست اصولی جامع المعقول والمنقول اورمجتہدتھے۔ جن کو غیرمقلدین کے پیشوامولانا صدیق حسن خان صاحبؒ بھی رئیس المجتہدین اور سردارتسلیم کرتےہوئے آپ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’انصاف ایں است کہ اگروجوداو درصدراول درزمانۂ ماضی بودامام الائمہ وتاج المجتہدین شمردہ می شود‘‘۔ ’’انصاف کی بات تویہ ہے کہ اگرشاہ صاحب کا وجودصدراوّل (پہلےزمانے) میں ہوتاتواماموں کے امام اورمجتہدین کے سردارشمارہوتے‘‘۔ (کتاب اتحاف النبلاء المتقين بمأثر الفقهاء و المحدثین: ص۳۰)
شیخ الہند شاہ ولی اﷲمحدث دہلویؒ نے اپنی تالیف ’’الامدادفی مآثرالأجداد‘‘ میں بتایاہےکہ اُن کا نسب حضرت عمربن الخطاب رضی اﷲعنہ تک پہنچتاہے۔ (فقہی اختلافات کی اصلیت اردو ترجمہ الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف: صفحہ ’’م‘‘)

شاہ ولی اﷲمحدث دہلویؒ نےاپنی کتاب عقدالجیدفی أحکام الاجتہادوالتقلید میں نہایت تفصیل کے ساتھ مجتہدین اوران کی تقلید کے مختلف درجات کاجائزہ لیتے ہوئے مجتہدین کے چارمختلف درجات بیان فرمائے ہیں۔
شاہ ولی اﷲمحدث دہلویؒ فرماتے ہیں: ’’معلوم ہونا چاہیئے کہ ان چارفقہی مسالک(حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) کواختیار کرنے میں لوگوں کے چاردرجے اورمرتبے ہیں اورہرطبقے کے لئے ایک حدمقررہے۔ کسی کے لئے یہ جائزنہیں کہ اس حدسے آگے بڑھے۔
۱۔ اوّل مجتہد مطلق کامرتبہ جس کی طرف ان فقہی مسالک میں سے کوئی ایک فقہی مسلک منسوب ہے۔
۲۔ دوسرا مجتہد فی المذہب یعنی ان مسائل کی تخریج کرنے والے کامرتبہ۔
۳۔ تیسرےمتبحرفی المذہب کامرتبہ ہے، جواپنے مسلک کاحافظ ہے، اس کی جزئیات اور اصول پرپوری دسترس رکھتاہے۔ اپنے حفظ اورمہارت کی مدد سے اپنے ائمہ کے مسلک کے مطابق فتوے دیتاہے۔
۴۔ چوتھے مقلدمحض، جواپنے مسلک کے علماءسے فتوے لے کران پرعمل کرتاہے۔
اہل علم کی بیشترکتابوں میں ہرمرتبے کی شرائط اوراحکام تفصیل سے بیان کیئے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض لوگ ان مراتب میں جوباہمی فرق ہے نہ اس کوسمجھتے ہیں اورنہ ان کے درمیان کوئی امتیازکرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ احکام کی پہچان ان کے لئے دشوارہوجاتی ہےاوروہ ان احکام کوایک دوسرے سےمتناقص سمجھنے لگتے ہیں۔
لوگوں کے اس تحیراورخلط مبحث کودورکرنے کے لئے ہم نے ارادہ کیاہے کہ ہرمرتبے کے لئے ایک مستقل فصل رکھی جائے اوراس میں اس مرتبے سے متعلق احکام کی وصاحت کے ساتھ نشان دہی کی جائے‘‘۔ (عقدالجیدفی أحکام الاجتہادوالتقلید: ص۴۷)
شاہ ولی اﷲمحدث دہلویؒ نےاپنی کتاب الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف میں نہایت تفصیل کے ساتھ مقلدین اوران کی تقلید کے مختلف درجات کاجائزہ لیتے ہوئے ان کےتین مختلف درجات بیان فرمائے ہیں۔
شاہ ولی اﷲمحدث دہلویؒ فرماتے ہیں: ’’ہم نے جوکچھ بیان کیا ہے اس کی تائیدکتاب الانوارسے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ اس کا مصنف کہتاہےکہ "جولوگ امام شافعیؒ، امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ یاامام احمدؒ کے مسلک کی طرف منسوب ہیں ان کی چندقسمیں ہیں۔
۱۔ طبقۂ عوام: جن کا امام شافعیؒ کی تقلید کرناان مجتہدین کے توسط سے ہوتاہے (جوامام شافعیؒ کی طرف منسوب ہوتے ہیں)۔
۲۔ وہ لوگ جودرجۂ اجتہادکوپہنچے ہوتے ہیں: اگرچہ وہ شخص جودرجۂ اجتہاد کوپہنچا ہواہووہ کسی مجتہدکی تقلید نہیں کرتامگراس کے باوصف وہ ایک امام کی طرف منسوب ہوتاہےکیونکہ وہ اجتہاد کے طریقے ادلۃ کے استعمال اوران کی باہمی ترتیب کاوہی اندازاختیارکرتاہے جواس امام کاطریقہ ہوتاہے۔
۳۔ طبقہ متوسطین: وہ لوگ جودرجۂ اجتہاد کونہیں پہنچے لیکن اجتہاد کے وہ اصول ان کے سامنے ہوتے ہیں اوروہ اس بات کی قدرت رکھتے ہیں کہ جومسئلہ (امام کے اقوال میں) تصریح کے ساتھ نہیں آیااسکوامام کے واضح کردہ اقوال پرقیاس کرسکتےہیں۔ یہ لوگ بھی امام کے مقلدہوتے ہیں اوران کے ساتھ وہ عالم لوگ بھی جوان کے مستنبط اقوال کواختیارکرتے ہیں۔ تاہم ان کے اصحاب کویہ حیثیت حاصل نہیں کہ ان کی تقلید کی جائے کیونکہ وہ خوددوسرے کے مقلد ہیں۔
ان دلائل کی روشنی میں کہ ابتدائی دوصدیوں میں کسی معین فقہی مذہب کواختیارکرنے کادستورنہ تھااورتیسری صدی میں کسی نہ کسی معین فقہی مذہب کواختیارکرناعام ہوگیااوریہ چیز ایک امرِ واجب قرارپائی"‘‘۔ (فقہی اختلافات کی اصلیت اردو ترجمہ الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف: ص۷۰-۶۹)
عامی شخص پرعالم کی تقلیدواجب ہے اگرچہ عالم اپنے فتوے میں غلطی پرہی کیوں نہ ہو۔
’’اعْلَم أَن الْعَاميّ الصّرْف لَيْسَ لَهُ مَذْهَب وَإِنَّمَا مذْهبه فَتْوَى الْمُفْتِي فِي الْبَحْر الرَّائِق لَو احْتجم أَو اغتاب فَظن أَنه يفطره ثمَّ أكل إِن لم يستفت فَقِيها وَلَا بلغه الْخَبَر فَعَلَيهِ الْكَفَّارَة لِأَنَّهُ مُجَرّد جهل وَأَنه لَيْسَ بِعُذْر فِي دَار الْإِسْلَام وَإِن استفتى فَقِيها فأفتاه لَا كَفَّارَة عَلَيْهِ لِأَن الْعَاميّ يجب عَلَيْهِ تَقْلِيد الْعَالم إِذا كَانَ يعْتَمد على فتواه فَكَانَ مَعْذُورًا فِيمَا صنع وَإِن كَانَ الْمُفْتِي مخطئا فِيمَا أفتى‘‘۔ ’’اگرکسی نے پچھنے لگوائے (یعنی حجامہ کرایا) یاغیبت کی، اوریہ گمان کیا کہ اس کا روزہ ٹوٹ گیاہے، کھالیا تواگرکسی فقیہ سے فتویٰ نہیں لیااور نہ اس کے پاس کوئی حدیث ہے، تواس پرکفارہ واجب ہے۔ کیونکہ محض جہالت کی وجہ سے ہوا، اور جہالت دارالاسلام میں عذرنہیں اور اگرکسی فقیہ سے فتویٰ لیااوران نے فتویٰ دے دیاکہ اس پر کفارہ واجب نہیں ہے، کیونکہ عام آدمی جب کسی عالم کے فتوے پراعتماد کرے، اگرچہ وہ عالم اپنے فتوے میں غلطی پرہی کیوں نہ ہو، تب بھی اس کی تقلید واجب ہے‘‘۔ (عقدالجیدفی أحکام الاجتہادوالتقلید: ص۷۲)


یہ کیسے ہوسکتاہے کہ تقلیدِشخصی کواﷲاوراس کے رسول ﷺنے واجب قرار نہیں دیا تووہ واجب کیسے ہوسکتی ہے؟
حضرت شاہ ولی اﷲمحدث دہلویؒ کسی معین فقہی مذہب کواختیار کرنے کے واجب ہونے پراشکال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’وکان ھذاھوالواجب فی ذلک الزمان‘‘۔ ’’اس پر اشکال سکتاہےکہ ایک وقت میں کوئی چیز واجب نہ ہواوردوسرے وقت وہی چیزواجب ہوجائے درآنحالیکہ شریعت ایک ہی ہے‘‘؟ (الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف: ص۷۰؛ فقہی اختلافات کی اصلیت: ۶۹)
اس اشکال کاجواب دیتے ہوئے حضرت شاہ ولی اﷲؒ فرماتے ہیں کہ: ’’یہ اعتراض کہ مجتہدمستقل کی اقتداءپہلے واجب نہ تھی پھرواجب ہوگئی اس میں تناقص (تضاد) ہے جواپنی نفی خودکرتاہے۔
اس کاجواب یہ ہے کہ امرواجب دراصل یہ ہے کہ امت میں کوئی شخص ایساہوجوفروعی احکامِ شریعت کاعلم اس کے تفصیلی دلائل کے ساتھ رکھتاہواس پرسب اہل حق متفق ہیں۔ اورجس بات پرکوئی امرواجب موقوف ہوتاہے وہ بات بھی واجب ہوتی ہےاورجب ادائے واجب کے متعددطریقے ہوں توان میں سے کسی ایک طریقہ کواختیار کرناواجب ہوگااس کے لئے کسی خاص طریقہ کاتعین لازم نہیں۔ اگراس کا ایک ہی طریقہ ہوتوخاص اس طریقہ کاحصول واجب ہوگا۔
اسی طرح اسلاف کے پاس اس واجب اصلی (یعنی اجتہاد) کوحاصل کرنے کےچند طریقے تھے اوران طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ کواختیارکرناواجب تھا، کسی خاص طریقہ کاتعین ضروری نہ تھاپھرجب سوائے ایک طریقے کے باقی طریقے ختم ہوگئے تویہی مخصوص طریقہ واجب رہا۔
مثلاً: سلف میں حدیثیں نہیں لکھی جاتی تھیں لیکن آج احادیث کالکھنا واجب ہے کیونکہ آج ان کتب احادیث کے سوا حدیثوں کی روایت کی اورکوئی صورت نہیں ہے اسی طرح اسلاف حصولِ علم نحو ولغت میں مشغول نہ ہوئے تھے کیونکہ عربی ان کی اپنی زبان تھی اورانہیں ان علوم میں سرکھپانے کی حاجت نہ تھی لیکن آج (ہمارے زمانے میں) عربی زبان کاعلم باقاعدہ حاصل کرنا واجب ہوگیاکیونکہ سابقہ اہل عرب کازمانہ بہت دور چلاگیا۔ ہمارے اس قول کے شواہد بہت ہیں۔
اسی پرایک معین امام کی تقلید کے واجب ہونے کوبھی قیاس کرنا چاہیئے‘‘۔ (فقہی اختلافات کی اصلیت اردو ترجمہ الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف: ص۷۰-۷۲)



یہی وہ بات ہے جس کی طرف حضرت شاہ ولی اﷲؒ نے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا کہ تقلید شخصی کاوجوب کوئی شرعی حکم نہیں بلکہ ایک انتظامی فتویٰ ہے۔
اس کی ایک واضح نظیر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمعِ قرآن کا واقعہ ہے، جب انہوں نے قرآنِ حکیم کا ایک رسم الخط متعین کر دیا تھا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے پہلے قرآنِ حکیم کو کسی بھی رسم الخط کے مطابق لکھا جا سکتا تھا کیونکہ مختلف نسخوں میں سورتوں کی ترتیب بھی مختلف تھی اور اس ترتیب کے مطابق قرآنِ حکیم لکھنا جائز تھا لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک شدیدفتنہ کے سدباب کےلئے پوری امت کی اجتماعی مصلحت کے پیشِ نظر اس اجازت کو ختم فرما کر قرآن کریم کے ایک رسم الخط اور ایک ترتِیب کو متعین کر کے امت کو اس پر متفق و متحد کر دیا اور امت میں اسی کی اتباع پر اجماع ہوگیا۔ بالکل یہی معاملہ تقلید شخصی کابھی ہے، کہ ایک عظیم فتنہ کے سدباب کے لئے اس کو واجب قراردیاگیاہے۔
آج کل کے غیرمقلدین حضرات ، درحقیقت تو ان میں کوئی ایک بهی غیرمقلد نہیں ہے بلکہ سب کے سب مقلد ہی ہیں جوآج کل کے چند جہلاء کی تقلید کرتے ہیں اوران جہلاءکو شیخ کےلقب سے پکارتے ہیں۔ کوئی بهی جاہل شخص جوفقہ حنفی یا امام اعظم ابوحنیفہؒ یا کسی اورحنفی عالم کے خلاف کچھ واہیات باتیں بولتا یا لکهتا ہے اورقرآن وحدیث کی غلط تشریحات بیان کرتے ہوئے مقلدین کو ان آیات واحادیث کا مصداق ٹھہرانے کی ناکام کوشش کرتاہے تو وه ان کے نزدیک شیخ بن جاتا ہے۔ لیکن اس پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بالکل اسی طرح صحابہ کرام ؓکے دور میں بھی خوارج کافرقہ وجود میں آیا تھا جوقرآن کی آیات پڑھ کر صحابہ کرامؓ کی نفی کرتا تھا اور حضرت علیؓ کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکا رکرتاتھااور اس کی دلیل قرآنِ کریم کی اس آیت سے دیاکرتا تھا کہ’’إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ‘‘، ’’حکومت صرف اﷲ کی ہے‘‘ یعنی خلافت کسی کی نہیں چلے گی۔ بالکل اسی طرح اسلامی تاریخ کےہر دور میں ایسے فرقے وجودمیں آتے رہے ہیں جوقرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ کو بنیاد بناکر اپنی جہالت کے سبب اہل علم سے اختلاف کرتےرہےہیں۔ ایسے باطل فرقوں کے رد میں شیخ الاسلام ابن تيمية اورابن القیم رحمهما الله تعالیٰ کے شاگردِخاص حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله نےساتویں صدی ہجری میں ایک مستقل انتہائی لطیف ومفید رسالہ لکھ کرہردورکےجاہلین خصوصاً آج کے دور کے غیرمقلدین حضرات پرزبردست رد کیا ہے، اس رسالہ کا نام ہے’’الرد علی من اتبع غیر المذاہب الاربعہ‘‘یعنی ان لوگوں پر رد جو مذاہب اربعہ (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے علاوه کسی اورکی اتباع کرتے ہیں۔
حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله(متوفی ۷۹۵)نے’’الرد علی من اتبع غیر المذاہب الاربعہ‘‘ ان لوگوں کی رد وتردید میں لکهی ہے جو فروعی واجتہادی مسائل میں مذاہب اربعہ (حنفی، شافعی، مالکی،حنبلی) کے علاوه کسی اور کی اتباع کرتے ہیں، اورپهر جولوگ صرف یہی نہیں کہ مذاہب اربعہ کی اتباع نہیں کرتے بلکہ ساتھ ہی دن رات ان پرلعن طعن بهی کرتے ہیں توایسے لوگ کتنے خطرے ونقصان میں ہیں وه بالکل واضح ہے۔
حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ: ’’فاقتضت حكمة الله سبحانه أن ضبط الدين وحفظه بأن نصب للناس أئمة مجتمعاً على علمهم ودرايتهم وبلوغهم الغاية المقصودة في مرتبة العلم بالأحكام والفتوى من أهل الرأي والحديث فصار الناس كلهم يعولون في الفتاوى عليهم ويرجعون في معرفة الأحكام إليهم وأقام الله من يضبط مذاهبهم ويحڑ قواعدهم، حتى ضبط مذهب كل إمام منهم وأصوله وقواعده وفصوله حتى ترد إلى ذلك الأحكام ويضبط الكلام في مسائل الحلال والحرام وكان ذلك من لطف الله بعباده المؤمنين ومن جملة عوائده الحسنة في حفظ هذا الدين ولولا ذلك لرأى الناس العجاب مِن كل أحمق متكلف معجبٍ برأيه جريءعلى الناس وثَّاب فيدعي هذا أنه إمام الأئمة ويدعي هذا أنه هادي الأمة وأنه هوالذي ينبغي الرجوع دون الناس إليه والتعويل دون الخلق عليه ولكن بحمد الله ومنته انسد هذا الباب الذي خطره عظيم وأمره جسيم وانحسرت هذه المفاسد العظيمة وكان ذلك من لطف الله تعالى لعباده وجميل عوائده وعواطفه الحميمة ومع هذا فلم يزل يظهر من يدعي بلوغ درجة الاجتهاد ويتكلم في العلم من غير تقليدٍ لأحد من هؤلاء الأئمة ولا انقياد فمنهم من يسوغ له ذلك لظهور صدقه فيما ادعاه ومنهم من رد عليه قوله وكذب في دعواه وأما سائر الناس ممن لم يصل إلى هذه الدرجة فلا يسعه إلا تقليد أولئك الأئمة والدخول فيما دخل فيه سائر الأمة‘‘۔ ’’اللہ تعالی كى حكمت ہے كہ اس كے دين كى حفاظت و ضبط اس طرح ہوئى كہ لوگوں كے ليے آئمہ كرام كھڑے كيے جن كاعلم و فضل اور درايت احكام وفتوىٰ ميں انتہائى درجہ كو پہنچا ہوا ہے وہ آئمہ اہل رائے ميں بھى ہوئے اور اہل حديث یعنی محدثین ميں بھى، اس طرح سب لوگ ان كے فتاویٰ پر چلنے لگے اور احكام معلوم كرنے كے ليے ان آئمہ كرام كى طرف رجوع كرتے ہيں اور پھر اللہ سبحانہ و تعالى نے ايسے افراد پيدا كيے جنہوں نے ان كے مذاہب كواحاطہ تحريرميں لايا اور ان كے قواعد لكھے حتیٰ كہ ہر ايک امام كا مسلک اور اس كے اصول و قواعد اور فصول مقرر كرديئےكہ احكام معلوم ہوں اورحلال وحرام كے مسائل معلوم وضبط كيے جاسكيں يہ اللہ تعالى كى اپنے بندوں پر مہربانى و رحمت تھى اور اس دين كى حفاظت ميں ايک اچھا احسان تھا، اگر يہ نہ ہوتا تو لوگ ہراحمق كى جانب سےعجيب وغريب اشياء ديكھتے جو بڑى جرأت كے ساتھہ اپنى احمقانہ رائے لوگوں كے سامنے بيان كرتا پھرتا، اور اس رائے پرفخربھى كرتا، اور امت كے امام ہونے كا دعوىٰ كر ديتا، اور يہ باور كراتا كہ وہ اس امت كا راہنما ہے، اور لوگوں كى اسى كى طرف رجوع كرنا چاہيے، كسى اور كى جانب نہيں ليكن اللہ كا فضل اور اس كا احسان ہے كہ اس نے اس خطرناک دروازے كو بند كر ديا، اور ان عظيم خرابيوں كو جڑ سے كاٹ پھينكا، اور يہ بھى اللہ كى اپنے بندوں پر مہربانى ہے لیكن اس كے باوجود ايسے افراد اب تک ظاہر ہوتے اور سامنے آتے رہتے ہيں جو اجتہادكے درجہ تک پہنچنے كا دعویٰ كرتے، اور ان آئمہ اربعہ كى تقلید كيے بغير علم ميں باتيں كرتے ہيں، اور باقى سارے لوگ جو اس درجہ تک نہيں پہنچے انہيں ان چاروں كى تقلید كيے بغير كوئى چارہ نہيں، بلكہ جہاں سارى امت داخل ہوئى ہے انہيں بھى داخل ہونا ہوگا‘‘۔ (الرد على من اتبع غير المذاہب الاربعۃ: ص ۲۶-۲۸)



سبحان اﷲحافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله کے اس تبصرے کا ایک ایک لفظ مبنی برحقیقت اورکهلا اور واضح پیغام حق ہے اور مذاہب ائمہ اربعہ سے بغاوت کی صورت میں جن خدشات وخطرات کے واقع ہونے کی طرف ابن رجب رحمہ اﷲ نے اشاره کیا ہے آج کے دور میں ہم اس کا مشاہده کر رہے ہیں۔
۱۔ جیساکہ شیعہ حضرات نے صحابہ کرام رضی اﷲعنہم اجمعین کی تقلید کا انکارکرتے ہوئے متعہ کے حرام ہونے اورامی عائشہ رضی اﷲعنہا، حضرت ابوبکرصدیق، حضرت عمرفاروق، حضرت عثمان غنی اورحضرت امیر معاویہ رضی اﷲعنہم اجمعین کے مقام ومرتبہ پرصحابہ کرامؓ کے ہونے والے اجماع کا انکارکیا۔
۲۔ مرزاغلام احمد قادیانی نےتقلید کا انکارکرتےہوئےختم نبوت کا انکارکیااورصحابہ کرامؓ، تابعین وتبع تابعینؒ، ائمہ مجتہدینؒ، مفسرینؒ اورمحدثینؒ سمیت پوری امت مسلمہ کے ہونے والے اجماع کا انکارکرکیا۔
۳۔ اسی طرح منکرین حدیث نے ائمہ محدثین کی تقلید کا انکارکرتے ہوئےکتب احادیث بلکہ سرے سے احادیث کا ہی انکار کردیااوراحادیث کے حجت شرعی ہونے پرامت مسلمہ کے ہونے والے اجماع کا انکارکیا۔
۴۔ بالکل ویسے ہی غیرمقلدین حضرات نے ائمہ مجتہدین کی تقلید کا انکارکرتے ہوئےطلاق ثلاثہ، بیس رکعات تراویح اورعامی شخص پرتقلید کے واجب ہونےپرخیرالقرون کے زمانے سے چلے آنے والے اجماع کا انکارکرکیا۔
۵۔ پھر ان ہی میں سے پیداہونے والے فرقہ غیرمقلدین جماعت المسلمین (مسعودی فرقے)نے ائمہ مجتہدین کے ساتھ ساتھ ائمہ محدثین کی تقلید کا بھی انکار کرتے ہوئے بخاری و مسلم کے"اصح الکتاب بعد الکتاب ﷲ" (قرآن کے بعد سب سے صحیح کتاب) ہونے پر۱۲۰۰ سالوں سےچلے آنے والے اجماع کاانکار کیااوربخاری ومسلم کی مرسل اورمدلس روایات کو ضعیف قراردیا۔
۶۔ بالکل اسی طرح موجودہ دورمیں پروفیسرغامدی صاحب نے بھی تقلید کا انکار کرتے ہوئے قربِ قیامت میں نزولِ حضرت عیسیٰؑ، رجم کی سزا، داڑھی اوردیگراحکامات کےوجوب پر خیرالقرون کے زمانے سے چلے آنے والے اجماع کا انکارکیا۔
مندرجہ بالاتمام باطل فرقے تقلید کا انکار کرنے کے بعدہی وجود میں آئے ہیں۔ کیونکہ جب کوئی شخص مجتہدین کی تقلید کا انکار کرتاہےتوپھر محدثین، مفسرین حتیٰ کہ صحابہ کرامؓ کی تقلید کا بھی انکارکربیٹھتا ہے کیونکہ اس کا ہرشخص پرسے اعتماد ختم ہوجاتاہے اور وہ یہ سوچنے پرمجبورہوجاتا ہےکہ جب مجتہدین سے اجتہاد کرنے میں غلطی ہوسکتی ہے توپھرمحدثین سے کسی حدیث کوصحیح یا ضعیف قراردینے میں اورکسی راوی کو ثقہ یا کذاب کہنے میں بھی غلطی ہوسکتی ہے اورکسی مفسرسے تفسیرقرآن کے سمجھنے اور بیان کرنے میں بھی غلطی ہوسکتی ہے۔
حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله ایک سوال نقل کرتے ہیں اورخود ہی اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’فإن قيل: فما تقولون في نهي الإمام أحمد وغيره من الأئمة عن تقليدهم وكتابة كلامهم، وقول الإمام أحمد: لا تكتب كلامي ولا كلام فلان وفلان، وتعلم كما تعلمنا۔ وهذا كثير موجود في كلامهم؟
قيل: لا ريب أن الإمام أحمد رضي الله عنه كان ينهى عن آراء الفقهاء والاشتغال بها حفظاً وكتابة ويأمر بالاشتغال بالكتاب والسنة حفظاً وفهماً وكتابة ودراسة وبكتابة آثار الصحابة والتابعين دون كلام مَن بعدهم ومعرفة صحة ذلك من سقمه والمأخوذ منه والقول الشاذ المطرح منه ولا ريب أن هذا مما يتعين الاهتمام به والاشتغال بتعلمه أولاً قبل غيره فمن عرف ذلك وبلغ النهاية من معرفته كما أشار إليه الإمام أحمد فقد صارعلمه قريباً من علم أحمد فهذا لا حجرعليه ولا يتوجه الكلام فيه إنما الكلام في منع من لم يبلغ هذه الغاية ولا ارتقى إلى هذه النهاية ولا فهم من هذا إلا النزر اليسير كما هو حال أهل هذا الزمان بل هو حال أكثر الناس منذ أزمان مع دعوى كثير منهم الوصول إلى الغايات والانتهاء إلى النهايات وأكثرهم لم يرتقوا عن درجة البدايات‘‘۔ ’’اگر يہ كہا جائے کہ امام احمد رحمه الله وغيرہ نے جو اپنى كتاب اور كلام ميں تقلید كرنے سے منع كيا ہے اس كے متعلق آپ كيا كہتے ہيں؟ اور پھر امام احمد رحمہ اللہ كا قول ہے ميرا اور فلان اور فلان كا كلام مت لكھو، بلكہ جس طرح ہم نے سيكھا ہے اور تعليم حاصل كى ہے اس طرح تم بھى تعليم حاصل كرو ائمہ كى كلام ميں يہ بہت موجود ہے؟
اس كے جواب ميں كہا جائيگا كہ بلاشک و شبہ امام احمد رحمہ اللہ فقہاء كى آراء لكھنے اور حفظ كرنے ميں مشغول ہونے سے منع كيا كرتے تھے بلكہ كہتے كہ كتاب و سنت كى فہم اور تعليم و تدريس اور حفظ ميں مشغول ہوا جائے اور صحابہ كرامؓ اور تابعين عظامؒ كے آثار لكھا كريں ان كے بعد والوں كى نہيں اور اس ميں سے صحيح اور ضعيف شاذ و مطروح قول كو معلوم كريں بلاشک اس سےیہ تعين ہو جاتا ہے كہ كتاب و سنت كى تعليم كا اہتمام كرنا كسى دوسرے كام ميں مشغول ہونے سے بہتر ہے بلكہ پہلے اس كى تعليم حاصل كى جائے۔ لہٰذا جو يہ جان لے اور اس كى معرفت كى انتہاء تک پہنچ جائے جيسا كہ امام احمد رحمه الله نے اشارہ كيا ہے تو اس كا علم تقريباً امام احمد رحمه الله كے قريب ہو گيا تو اس پر كوئى روک ٹوک نہيں ہے اور نہ ہى اس كے متعلق كلام کیاجارہا ہے، بلكہ كلام تو اس شخص كے متعلق ہے جو اس درجہ تک نہيں پہنچا اور نہ ہى وہ اس كى انتہاء كو پہنچا ہے اور نہ اس نے کچھ سمجھا ہے ہاں تهوڑا ساعلم ضرور ہے جيسا كہ اس دور كے لوگوں كى حالت ہے بلكہ كئى زمانوں سے اكثر لوگوں كا يہى حال ہے وہ انتہاء درجہ تک پہنچنے اورغايت كو پانے كا دعوىٰ كرتے ہيں حالانكہ وہ تو ابتدائى درجات تک بھى نہيں پہنچ سكے‘‘۔ (الرد على من اتبع غير المذاہب الاربعۃ: ص ۳۵-۳۶)


حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله(متوفی ۷۹۵)نے اس رسالہ میں دو اہم فیصلے سنائے ہیں:
۱۔ فروعی مسائل میں صرف اورصرف مذاہب الاربعہ کی اتباع
۲۔غیرمذاہب الاربعہ کی اتباع نہ کرنا
کسی مسلمان کے لیئے یہ جائزنہیں ہے کہ فروعی مسائل میں مذاہب الاربعہ کے علاوه کسی اورکو اختیار کرے، لہٰذا ائمہ اربعہ کے علاوه کسی کی تقلید جائزنہیں ہے۔ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله نے اپنے اس فیصلے پرکئی دلائل پیش کئے ہیں، مثلاً: صحابہ کرام رضی الله عنہم کا لوگوں کو صرف مصحف عثمانی کی قراءت پرجمع کرنا، جب انهوں نے دیکها کہ اب مصلحت ومنفعت اسی میں ہے، کیونکہ لوگوں کو اگرآزاد چهوڑدیا جائے تومختلف مفاسد ومہالک وخطرات میں مبتلا ہوجائیں گے، لہٰذااحكام کے مسائل اورحلال وحرام کے فتاویٰ کا بهی یہی حال ہے، پهراس دعویٰ پر ابن رجب الحنبلی رحمہ الله نے کئی دلائل ذکرکئے مثلاً:
۱۔ اگرلوگوں کو معدود ومشہورائمہ (یعنی ائمہ اربعہ)کے اقوال پرجمع نہ کیا جائے تو دین میں فساد واقع ہوجائے گا۔
۲۔ ہرأحمق بے وقوف وجاہل اپنے آپ کو مجتہدین کے زمره میں شمارکرے گا۔
۳۔ کبهی کوئی جهوٹا قول کوئی بات مُتقدمین سلف کی طرف منسوب کیا جائے گا۔
۴۔ اورکبهی کوئی تحريف کرکے ان کی طرف منسوب کیا جائے گا، اورکبهی یہ قول بعض سلف کی خطاء ولغزش ہوگی جس کے ترک کرنے اورچهوڑنے پر مسلمانوں کی ایک جماعت کا اجتماع ہوگا۔
۵۔ لہٰذا مصلحت کا تقاضا وہی ہے جو الله تعالیٰ کی قضاء وقدر میں مقررہوچکا ہے یعنی لوگوں کو مشہورائمہ (یعنی ائمہ اربعہ) رضی الله عنہم اجمعين کے مذاہب پرجمع کیا جائے۔
ابن رجب الحنبلی رحمہ الله ایک اعتراض نقل کرتے ہیں وه یہ کہ ممکن ہے کہ حق ائمہ اربعہ کے اقوال سے خارج ہو ؟
پھرابن رجب الحنبلی رحمہ الله نے اس شبہ کے واقع ہونے کا انکارکیا ہے کہ حق ائمہ اربعہ کے اقوال سے خارج ہو، اوراس کی دلیل یہ دی کہ کیونکہ ’’لأن الأمة لا تجتمع على ضلالة‘‘، ’’امت مسلمہ کبهی گمراہی پرجمع نہیں ہوسکتی ‘‘۔



الله تعالی کی بے شمار رحمتیں نازل ہوں تمام ائمہ وعلماء اہل سنت پر کہ ہر مسئلہ میں ہر پہلو اور ہرمیدان میں ہماری راہنمائی فرمائی اورتمام فتنوں سے ہمیں پہلے ہی آگاه وخبرادار کیا ، حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ الله کا مبنی برصدق وحق کلام وتبصره آپ نے پڑھ لیا، یقیناًاس کلام میں ہم سب کے لئے اورخصوصاًان نادان لوگوں کے لئے بڑی عبرت ونصیحت ہے جنہوں نے دین کے معاملہ ائمہ حق وہدی ائمہ اربعہ کی اتباع چهوڑ کر آج کل کے چند جاہل لوگوں کی اورنفس وشیطان کی اتباع کا طوق اپنے گلے میں ڈال دیا ہے۔
آئمہ کرام کا حدیث سمجھنے میں اختلاف بالکل اسی طرح سے ہے جیسا کہ صحابہ کرام رضی الله عنھم کا حدیث سمجھنے میں ہواتھا۔
’’حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَرَى التَّحْصِيبَ سُنَّةً وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْحَصْبَةِ۔ قَالَ نَافِعٌ قَدْ حَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ‘‘۔ ’’نافع ابن عمررضی اﷲعنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ محصب میں اترنے کوسنت جانتے تھےاور ظہر وہیں پڑھتے تھےنحرکے دن کی۔ نافع نے کہاکہ محصب میں اترے ہیں رسول اﷲﷺاورآپ کے بعداترے ہیں خلیفہ آپ کے‘‘۔
’’حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ نُزُولُ الأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِﷺلأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ إِذَا خَرَجَ‘‘۔ ’’حضرت عائشہ رضی اﷲعنہانے فرمایاکہ محصب میں اترناکچھ واجب نہیں اور جناب رسول اﷲﷺتو صرف اس لئے وہاں اترے ہیں کہ وہاں سے نکلناآسان تھاجب مکہ سے آپ نکلے‘‘۔ (صحيح مسلم: كِتَاب الْحَجِّ، بَاب اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ، رقم الحديث: ۳۱۶۸، ۳۱۶۹)
ایک فعل جو رسول الله ﷺسے صادر ہوا جو ظاهرا ًدلیل ہے سنّت ہونے کی۔چناچہ ابن عمر رضی الله عنہ اسی بنا پر اسے سنّت کہتے ہیں۔اس کی نسبت ام المومنین حضرت عائشہ رضی الله عنہامحض اپنی قوت اجتہادیہ سے فرماتی ہیں کہ یہ فعل سنّت نہیں، آپﷺاتفاقاً وہاں ٹھہرگئےتھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے اجتہاد کو صحابہ (رضی الله عنھم) مقابلہ حدیث کا نہ سمجھتے تھے۔ اس کی نظیر ہے حنفیہ کا یہ قول کہ نمازجنازہ میں جو فاتحہ پڑھنا منقول ہے، یہ سنّت مقصودہ نہیں، اتفاقاً بطورثنا و دعاء کے پڑھ دی تھی یا ان کا یہ قول کہ جنازہ کی وسط کے محاذاة میں کھڑا ہونا قاصدا نہ تھا بلکہ اتفاقاً کسی مصلحت سے تھا تو یہ حضرت بھی قابل ملامت نہیں ہیں۔اس کے برعکس نمازمیں امام کے پیچھے خاموش رہنے پرقرآن کی آیت اوراحادیث بھی اس بات کی گواہی دیتی ہیں۔
’’حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ـ وَهْوَ الشَّيْبَانِيُّ ـ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، فَقَالَ عُمَرُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ"‘‘۔ ’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مردے کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے‘‘۔
’’حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُرضى الله عنه۔ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَرضى الله عنها۔ فَقَالَتْ رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ، وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ اللَّهَ لَيُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ۔ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ "إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ"۔ وَقَالَتْ حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ {وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى}‘‘۔ ’’ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو میں نے اس حدیث کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ رحمت عمر رضی اللہ عنہ پر ہو۔ بخدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ اللہ مومن پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب کرے گا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اور زیادہ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد کہنے لگیں کہ قرآن کی یہ آیت تم کو بس کرتی ہے کہ }کوئی کسی کے گناہ کا ذمہ دار اور اس کا بوجھ اٹھانے والا نہیں{‘‘۔ (صحيح البخاری: كِتَاب الْجَنَائِزِ، باب قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم: «يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ»إِذَا كَانَ النَّوْحُ مِنْ سُنَّتِهِ، رقم الحديث: ۱۲۹۰، ۱۲۸۸)
اس مسئلہ پر ابن عمررضی اﷲعنہ اور امی عائشہ رضی اﷲعنہاکا ایک مشہوراختلاف تھا کہ میت پر اس کے گھروالوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب ہوگا یا نہیں؟ امی عائشہ رضی اﷲعنہا کا خیال یہ تھا کہ میت پر اس کے گھروالوں کے نوحہ کرنے سے عذاب نہیں ہوتا کیونکہ ہر شخص صرف اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ امی عائشہ رضی اﷲعنہا کی دلیل قرآن کی اس آیت سے ہے کہ ’’وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى۔ [سورۃ الانعام: ۱۶۴]‘‘کسی پردوسرے کی کوئی ذمہ داری نہیں اس لئے نوحہ کی وجہ سے جس گناہ کے مرتکب مردہ کے گھروالے ہوتے ہیں اس کی ذمہ داری مردے پرکیسے ڈالی جاسکتی ہے؟ لیکن اس کے برعکس حضرت ابن عمررضی اﷲعنہ کی دلیل یہ حدیث تھی کہ ’’کہ مردے کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے‘‘۔ حدیث واضح اور خاص میت کے لئے تھی اور قرآن میں ایک عام حکم بیان ہوا ہے۔ عائشہ رضی اﷲعنہا کا جواب یہ تھا کہ ابن عمررضی ا ﷲعنہ سے حدیث سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ رسول اﷲﷺکا ارشاد ایک خاص واقعہ سے متعلق تھا، کسی یہودی عورت کے انتقال پر۔ اس پر اصل عذاب کفر کی وجہ سے ہورہا تھالیکن مزید اضافہ گھروالوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے کردیا گیا۔ لہٰذا حضوراکرمﷺ نے اس موقع پر جو کچھ فرمایاوہ مسلمانوں کے بارے میں نہیں تھا۔ اس کے باوجود بھی ائمہ کرام نے حضرت ابن عمررضی اﷲعنہ کے خلاف امی عائشہ رضی اﷲعنہاکے اس استدلال کو تسلیم نہیں کیا۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جس طرح قرآن و حدیث کو سمجھنے میں صحابہ کرامؓ میں اختلافات ہوئے بالکل اسی طرح آئمہ مجتہدین میں بھی قرآن و حدیث کو سمجھنے میں اختلافات ہوئے۔ جس مجتہد کی نظرمیں جو دلیل بہترتھی اس نے اسی سے استدلال کیا اوربعدمیں ان کے پیروکاروں نے اس مجتہد کے استدلال پر اعتماد کرتے ہوئے اسی پر عمل کیا۔ اسی اعتماد کا دوسرا نام تقلید ہے۔
جس شخص کو قوت اجتہادیہ حاصل نہ ہو اور مجتہد نہ ہو اس کو اجتہاد کرنے کی اجازت نہیں، اور ممکن ہے کہ ایک شخص حافظ حدیث (محدث) ہو اور مجتہد نہ ہو اس لئے صرف جمع روایات (احادیث) سے قابل تقلید ہونا ضروری نہیں۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا وَوَعَاهَا وَأَدَّاهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى غَيْرِ فَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ"۔ ’’حضرت ابن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے فرمایا: تروتازہ فرماویں الله تعالیٰ اس بندے کو جو میری حدیث سنے اور اس کو یاد رکھے اور دوسرے کو پہنچاوے کیونکہ بعضے پہنچانے والے علم کے خود فقیہ (سمجھ رکھنےوالے) نہیں ہوتے اور بعضے ایسوں کو پہنچاتے ہیں جو اس پہنچانے والے سے زیادہ فقیہ (سمجھ رکھنےوالے) ہوتے ہیں‘‘۔ (جامع الترمذي: كِتَاب الْجُمُعَةِ: أَبْوَابُ السَّفَرِ، رقم الحديث: ٢٦٥٧، ٢٦٥٨)
اس حدیث میں صاف تصریح ہے کہ بعض محدث، حافظ الحدیث صاحبِ فہم نہیں ہوتے یا قلیل الفہم ہوتے ہیں۔حافظ القرآن اور حافظ الحدیث ہونا اور بات ہے اور قرآن و حدیث کا فہم حاصل ہونا اوربات ہے۔یہی وجہ ہے کہ محدثین تو بہت سے گزرے ہیں لیکن تمام محدث فقیہ نہیں تھے۔
اس حدیث میں صاف تصریح ہے کہ بعض حافظ الحدیث صاحبِ فہم نہیں ہوتے یا قلیل الفہم ہوتے ہیں۔ حافظ الحدیث ہونا اور بات ہے اور حدیث کا فہم حاصل ہونا اوربات ہے۔
’’عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، قَالَ عَطَاءٌ: فَقُلْتُ: إِنَّمَا طَلَاقُ الْبِكْرِ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: "إِنَّمَا أَنْتَ قَاصٌّ، الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا، وَالثَّلَاثَةُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ"‘‘۔
’’عطا بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبدللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ سے مسئلہ پوچھا کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کو قبل صحبت تین طلاق دیں، تو عطا (رحمہ الله) نے فرمایا کہ باکرہ کو ایک ہی طلاق پڑتی ہے۔ تو حضرت عبداللہ رضی الله عنہ بولے کہ تم تو نرے واعظ آدمی ہو (یعنی فتویٰ دینا کیا جانو)، ایک طلاق سے تو وہ بائن ہوجاتی ہے اور تین طلاق سے حلالہ کرانے تک حرام ہوجاتی ہے‘‘۔ (موطأ مالك رواية يحيى الليثي: كِتَاب الطَّلَاقِ:بَابُ طَلَاقِ الْبِكْرِ، رقم الحديث: ١١٧١)(تیسیرکلکتہ: صفحہنمبر٣١٤)
حضرت عطا (رح) کے فتویٰ کو، باوجود ان کے اتنے بڑے محدث و عالم ہونے کے، حضرت عبداللہ ؓنے محض ان کی قوت اجتہادیہ کی کمی سے معتبر و معتدبہ نہیں سمجھا، اور "إنما أنت قاص" سے ان کے مجتہد نہ ہونے کی طرف اشارہ فرمایا، جس کا حاصل یہ ہے کہ نقل روایت اور بات ہے اور افتاء و اجتہاد اور بات ہے۔ آگے اس کی دلیل سنے کے باوجود حافظ الحدیث ہونے کے مجتہد نہ ہونا ممکن ہے۔
مجتہد اگر اجتہاد میں غلطی کرجائے توبھی اُسے ایک اجرملتاہےجبکہ غیرمجتہد غلطی کرجائے تو اسے گناہ ہوگا۔
’’حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ "إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ"۔ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ‘‘۔ ’’نبی ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ جب حاکم (مجتہد)کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور جب کسی فیصلہ میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے اکہرا ثواب ملتا ہے‘‘۔ (صحيح بخاری، کتاب الاعتصام، باب أَجْرِ الْحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ، رقم الحدیث ۷۳۵۲)
’’حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، -يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ- عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم"مَنْ أَفْتَى"۔ح وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي نُعَيْمَةَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الطُّنْبُذِيِّ -رَضِيعِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ- قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم"مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ"‘‘۔ ’’حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی فتویٰ بغیر علم کے دیا گیا تو اس فتویٰ کا گناہ اس مفتی پر ہو گاجس نے اس کو فتویٰ دیا‘‘۔ (رواۃ ابو داؤد، جلد نمبر ۳، صفحہ نمبر ۸۵۴، رقم الحدیث۳۶۵۷)
مندرجہ بالاپہلی حدیث کے مطابق مجتہد یعنی امام شافعی ؒ یا امام ابو حنیفہ ؒ میں سے کسی کا اجتہاد غلطی پر بھی ہواتو بھی ان کو ایک اجر ملے گا لہٰذا ان کے اس اجتہادکی پیروی(تقلید) کرنے والے کو بھی ایک اجر ملےگا جبکہ دوسری حدیث کے مطابق بغیر علم کے فتویٰ دینے والا گناہ گار ہوگا لہٰذا بغیر علم کے اجتہاد کرنےوالا تو بطریق اولیٰ گناہ گار ہوگاکیونکہ اجتہاد کرنا فتویٰ دینے سے زیادہ بڑاعمل ہےاور اس غیر عالم کے فتویٰ یا اجتہادکی پیروی (تقلید) کرنے والا بھی گناہ گار ہوگا۔ اس لئے تمام مسلمان بھائیوں سے گزارش ہے کہ یا تو خود علم دین پر مکمل دسترس حاصل کرکےمجتہد بن جائیں یا پھر کسی ایسے مجتہد کی پیروی (تقلید) کریں جس کے مجتہد ہونے پر امت مسلمہ پچھلے ۱۴۰۰ سالوں سے متفق ہے۔ کیونکہ تقلید کرنے میں خطاء کا امکان کم ہےجبکہ غیرمجتہدکے لئے خطاءکے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
باب نبی کریم ﷺ کاارشاد! ’’میری امت کی ایک جماعت حق پرغالب رہے گی اور جنگ کرتی رہے گی‘‘۔ (صحیح البخاری)
’’حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ"لاَ يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ"‘‘۔ ’’مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا ( اس میں علمی و دینی غلبہ بھی داخل ہے ) یہاں تک کہ قیامت آجائے گی اور وہ غالب ہی رہیں گے‘‘۔ (صحيح البخاری:كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ’’لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ يُقَاتِلُونَ‘‘۔وَهُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ، رقم الحديث۷۳۱۱)
مندرجہ بالا حدیث کی روشنی میں یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ ہر دور میں مسلمانوں کی ایک جماعت حق پر غالب رہے گی اور جنگ کرتی رہے گی۔اب سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وہ کونسی جماعت ہے جو پچھلے ۱۴۰۰ سالوں سے حق پر غالب رہی ہے اور ساتھ میں جنگ بھی کرتی رہی ہے۔
اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمانوں میں فقہ حنفی کے ماننے والوں کی تعداد ہمیشہ سب سے زیادہ رہی ہے اور علمی اور دینی لحاظ سے بھی اسی فقہ کے ماننے والوں کا غلبہ رہا ہے اور جہاد کے میدانوں میں بھی سب سے زیادہ خدمات وفتوحات اِنھی کے ماننے والوں کی ہیں اور الحمدﷲآج بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ مجاہدین اسی فقہ سے تعلق رکھنے والے ہیں۔غیر مقلدین حضرات سے گزارش ہے کہ وہ ان ۱۴۰۰سالہ تاریخ میں اپنی کوئی ایک علمی وجہادی جماعت اور اس کی کوئی ایک دینی خدمت پیش کردیں جس سے وہ اس حدیث کا مصداق بن سکیں۔
آج ہرغیر مقلدعامی اور جاہل شخص تقلید کا انکار کرتے ہوئے دعویٰ کرتا ہے کہ میں کسی امام کی تقلید نہیں کرتا۔ جبکہ اﷲ تعالیٰ عالم اور جاہل میں خود ہی فرق بیان فرماتےہیں کہ: ’’اس کو عالموں کے سواکوئی نہیں سمجھتا۔ کیا علم والے اور جاہل برابرہیں؟‘‘
’’بَابُ الْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ‘‘۔ ’’اس بیان میں کہ علم (کا درجہ) قول و عمل سے پہلے ہے‘‘۔
وَأَنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ- وَرَّثُوا الْعِلْمَ-
لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَا يَعْقِلُهَا إِلاَّ الْعَالِمُونَ}، {وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ}
وَقَالَ: {هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَ}
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ"۔
وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ لَوْ وَضَعْتُمُ الصَّمْصَامَةَ عَلَى هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى قَفَاهُ- ثُمَّ ظَنَنْتُ أَنِّي أُنْفِذُ كَلِمَةً سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تُجِيزُوا عَلَيَّ لأَنْفَذْتُهَا۔
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {كُونُوا رَبَّانِيِّينَ} حُكَمَاءَ فُقَهَاءَ۔ وَيُقَالُ الرَّبَّانِيُّ الَّذِي يُرَبِّي النَّاسَ بِصِغَارِ الْعِلْمِ قَبْلَ كِبَارِهِ۔
(حدیث میں ہے) کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ (اور) پیغمبروں نے علم (ہی) کا ورثہ چھوڑا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ اور (دوسری جگہ) فرمایا اور اس کو عالموں کے سوا کوئی نہیں سمجھتا۔اور فرمایا، کیا علم والے اور جاہل برابر ہیں؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص کے ساتھ اللہ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ حاضر کو چاہیے کہ (میری بات) غائب کو پہنچا دے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ آیت ’’كونوا ربانيين‘‘ سے مراد حکماء، فقہاء، علماء ہیں۔ اور ’’رباني‘‘ اس شخص کو کہا جاتا ہے جو بڑے مسائل سے پہلے چھوٹے مسائل سمجھا کر لوگوں کی (علمی) تربیت کرے۔ (صحيح البخاری:كتاب العلم، بَابُ الْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ، رقم الحديث ۶۷)
مندرجہ بالا ارشادات سے علماء و فقہاء کی اہمیت اور ان کے مقام کی افضلیت کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے، اور یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ غیر مقلدین کا علماء کی تقلید سے انکار کرتے ہوئے ہر جاہل شخص کے ہاتھوں میں قرآن و حدیث تھما کر تحقیق کا حق دیدینا ایک بہت بڑی حماقت اور جہالت ہے۔کیونکہ عالم اور جاہل کبھی برابرنہیں ہوسکتےاور علم کی باتین عالموں کے سواکوئی نہیں سمجھتا۔
تقلید پر صحابہ کرامؓ کے اقوال اور غیر مقلدین کا دھوکہ
غیرمقلدین حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ؓکا صرف اتنا قول پیش کرتے ہیں اورعام مسلمانوں کو بیوقوف بناتےہیں: ’’لا یقلدن رجل رجلاً دینہ‘‘۔ ’’کوئی شخص اپنے دین میں کسی دوسرے کی تقلید نہ کرے‘‘۔
قارئینِ کرام! مکمل عبارت کچھ اس طرح سے ہے:
’’وعن عبدالله بن مسعود قال لا يقلدن أحدكم دينه رجلا فإن آمن آمن وإن كفر كفر وإن كنتم لا بد مقتدين فاقتدوا بالميت فإن الحي لا يؤمن عليه الفتنة رواه الطبراني في الكبير ورجاله رجال الصحيح‘‘۔
’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئي دین میں کسی آدمی کی تقلید نہ کرے کہ اگر وہ ایمان لائے تو یہ بھی ایمان لائے اور اگر وہ کفر کرے تو یہ بھی کفر کرے ، اور اگر اقتداء کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو تو مردوں (فوت شدہ ) کی کرو زندوں کی نہیں کیوں کہ زندہ افراد پر فتنہ سے بچنے کی کوئی گارنٹی نہیں‘‘۔(مجمع الزوائد: ج۱، ص۱۸۰)
جواب : دینیات اور ایمانیات میں اہلسنت والجماعت میں سے تقلید کا کوئی بھی قائل نہیں، سوائے ضروریات ِ احکام شرعیہ معلوم کرنے کیلئے۔اُمید ہے کہ مکمل عبارت پڑھ کر تمام قارئینِ کرام کو غیر مقلدین کے دھوکے اور فریب کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگاکہ حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ نے ایمان اور کفر کے معاملےمیں کسی کی تقلید سے منع فرمایا ہے ناکہ فروعی مسائل میں کسی امام یا مجتہد کی تقلید سے بلکہ اگلے ہی جملے میں آپؓ نے زندوں کے مقابلے میں فوت شدہ لوگوں کی تقلیدکرنے کی نصیحت بھی فرمائی کیونکہ زندہ لوگوں پرفتنہ کا اندیشہ ہوتاہے۔
غیرمقلدین حضرت معاذ بن جبل ؓکا صرف اتنا قول پیش کرتے ہیں اورعام مسلمانوں کو بیوقوف بناتےہیں:
’’حاما العالم فان اهتدي فلا تقلدوه دينكم‘‘۔ ’’اگر عالم ہدایت پر بھی ہو تو اس کی دین میں تقلید نہ کرو‘‘۔
قارئینِ کرام! مکمل عبارت کچھ اس طرح سے ہے:
’’قال معاذ بن جبل یا معشر العرب کیف تصنعوں بثلاث دنیا تقطع اعناقکم وزلۃ عالم و جدال منافق بالقرآن فسکتوا فقال اما العالم فان اھتدی فلا تقلدوہ دینکم و ان افتتن فلا تقطعوا منہ اناتکم فان المومن یفتتن ثم یتوب‘‘۔
’’حضرت معاذ نے تین امور کے متعلق لوگوں سے پوچھا جن میں ایک عالم کی غلطی کے متعلق تھا۔حضرت معاذؓ فرماتے ہیں عالم کی پھلسن سے اپنے آپ کو بچانے کا یہ طریقہ ہے کہ تم بس دینیات کے اندر اس کی تقلید نہ کرو چاہئے وہ ہدایت یافتہ ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اگر وہ خود کسی فتنے میں پڑجاتا ہے تو بعد میں توبہ بھی کر سکتا ہے‘‘۔(جامع بیان العلم و فضلہ: ج۲،ص ۱۱۱)
جواب :تقلید اجتہاد میں ہوتی ہے اور آئمہ اربعہؒ میں سے کوئی ایک بھی دینیات و ایمانیات میں اجتہاد کا قائل نہیں، یہ سب ضروریات ِاحکام شرعیہ معلوم کر نے کیلئے مسائل میں استنباط کے اہل ہیں، وہ بھی سب سے پہلے کتاب اللہ، سنت رسول اللہ، اجماع و اجتہاد صحابہ کے بعد پھر اپنا اجتہاد، لہذا آئمہ اربعہؒ کے مدون مذہب سے ایمان کو کسی قسم کا خطرہ نہیں البتہ ان کے علاوہ اوروں سےجو بعد والے ہیں ایمان محفوظ نہیں۔
0 Comments