رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو جنت کی بشارت پلمبریوں کی موت ہے⚰️
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ﺍﻭّﻝ ﺟﯿﺶ ﻣﻦ ﺍﻣﺘّﯽ ﯾﻐﺰﻭﻥ ﺍﻟﺒﺤﺮ ﻗﺪﺍﻭﺟﺒﻮﺍ
"ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﻓﻮﺝ ﺟﻮ ﺑﺤﺮﯼ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻨﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﻮ گئی ہے"
صحیح بخاری:2924) (ابن ماجہ:2776)
صحیح بخاری:2788) (صحیح بخاری:2789)
(صحیح بخاری:2799) (صحیح بخاری:2800)
(صحیح بخاری:2877) (صحیح بخاری:2878)
(صحیح بخاری:2924) (صحیح بخاری:6282)
(صحیح بخاری:6283) (صحیح بخاری:7002)
(ترمزی:1645) (ابو داؤد:2490) (نسائی:3173)
(نسائی:3174) (مسند احمد:4837)
(مسند احمد:11993) (سلسلہ صحیحہ:2575)
(صحیح مسلم:4935) (صحیح مسلم:4934)
مشکوٰۃ المصابیح:5859) (مستدرک حاکم:8668)
📚 حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’ قَالَ الْمُهَلَّبُ : فِیْ هٰذَا الْحَدِیْثِ مَنْقِبَةٌ لِمُعَاوِیَةَ لِأَنَّهٗ أَوَلُ مَنْ غَزَا الْبَحْرَ (فتح الباری:۱۰۲/۶)
’’اس حدیث میں حضرت معاویہ کی فضیلت ہے کیونکہ سب سے پہلے انھوں نے ہی بحری غزوہ کیا"
لیکن ان انکاریوں فراریوں پلمبریوں جھالویوں نے اپنے بغض خبث میں بشارت رسول ﷺ ہی جھٹلا دی🚫
👈 جسطرح کتے کو کھیر ہضم نہیں ہوتی اسی طرح پلمبریوں کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی کوئی فضیلت ہضم نہیں ہوتی
اور ان سب کا گرو گھنٹال وکیل شیعہ اسحاق جھالوی مردود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو جنت کی بشارت والی حدیث صحیح بخاری 2924 کو سرعام جھوٹی کہتا تھا اور اسی عقیدہ پر رجوع کیے بغیر مردود مر گیا تھا
👈 اصل میں جنت کی بشارت تسلیم کرنے سے انکا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف تمام جھوٹا پروپیگنڈہ تہس نہس ہو جاتا ہے اور انکے پروپیگنڈے کی حیثیت ختم ہو جاتی یے
اس لیے اسحاق جھالوی نے تو اپنی بد زندگی میں ہی اس حدیث کو جھوٹی کہ کر جان چھڑوا لی تھی اور کہا تھا
"معاویہ رضی اللہ عنہ کو کیوں بشارت دینی تھی جنت کی اللہ نے"
یعنی اسے اللہ کے فیصلے سے بھی اختلاف تھا
👈 لیکن ہاں پلمبریوں کو ابھی تک یہ جرات نہیں ہوئی کہ وہ اس حدیث کو جھوٹا قرار دیں سکیں البتہ ان پلمبریوں کا راف,ضی امام مرزا جہلمی کچھ وسوسے دیتا یے
آج ہم انکے تمام وسوسوں کا قیامت تک کے لیے جڑ سے صفایا کر دیں گے ان شاء اللہ
________________________________________________
⭕ پلمبری مرزائی وسوسہ نمبر 1⃣:
پلمبریوں کا امام مرزا جہلمی پلمبر کہتا ہے
"اس جنت کی بشارت والی حدیث میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لکھا ہوا
جواب:
ابے اندھے بہرے لولے لنگڑے تباہ کن بھیانک مقلدو دماغ ہے یا دماغ میں بھوسہ بھرا ہوا ہے؟
اہل بدر کو جنت کی بشارت ہے انکے متعلق یہاں تک کہا گیا ہے بدری جو مرضی کرتے پھریں اب انکے اگلے پچھلے سب گناہ معاف ہو چکے ہیں (صحیح بخاری: 3007)
یعنی سارے بدری کنفرم لوہے توڑ جنتی ہیں اب یہ بدری صحابہ کی فضیلت ہے یا نہیں؟
جب فضیلت ہے تو کیا اس میں نام لے لے کر جنت کی بشارت دی گئی یے یا پورے گروہ کے متعلق جنت کی بشارت یے؟
بلکل نام لیے بغیر پورے لشکر کو بشارت ہے اور سبھی کنفرم جنتی ہیں اور اب جس جس کا جنگ بدر میں ہونا ثابت ہے اسکی یہ بہت فضیلت بھی ہے اور وہ کنفرم جنتی بھی ہے
اسی طرح قرآن میں بیعت رضوان والوں کو جنت کی خوشخبری ہے تو کیا یہ فضیلت نہیں یے؟
بلکل فضیلت یے لیکن دکھاؤ یہ جنت کی بشارت نام لے لے دی گئی ہو؟
ابے اندھے بہرے لولے لنگڑے عقل سے پیدل بدترین مقلدو اسی طرح جب آ گیا جو پہلا لشکر سمندر میں جہاد کرے گا ان کے لیے جنت کی بشارت ہے تو اس جنگ میں جس جس کا بھی شریک ہونا ثابت ہے تو ان سب کی جنت بھی پکی لوہے توڑ اور انکی فضیلت بھی ثابت ہو گئی
اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو اس فوج کے سردار سِپَہ سالار چیف کمانڈر آرمی چیف تھے
اب تم لوگوں کی شلواریں پیلی ہوتی ہیں اس فضیلت سے تو ہوتی رہیں بھاڑ میں جاؤ ہم تو قیامت تک یہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم عام کریں گے
________________________________________________
⭕پلمبری مرزائی وسوسہ نمبر 2⃣:
پلمبریوں کا امام مرزا جہلمی پلمبر یہ بھی کہتا ہے:
اگر اس سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہو رہی تھی تو امام بخاری رحمہ اللہ نے جب صحیح بخاری میں باب ذکر معاویہ رضی اللہ عنہ قائم کیا تو اس حدیث کو اس باب میں کیوں نہیں لائے؟
جواب:
اندھے مقلدو جب اس سے فضیلت ثابت ہوتی ہے تو امام بخاری رحمہ اللہ اسے صحیح بخاری میں جہاں بھی لائیں کیا فرق پڑتا یے اور تمہیں کیا تطلیف ہے؟
اصل چیز تو یہ ہے کہ پہلا سمندری لشکر جو جہاد کرے گا اسکو جنت کی بشارت یے یہ بہت بڑی فضیلت ہے دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری ہے اب یہ جہاں بھی آئے فضیلت تو رہے گی نہ
باقی رہی بات امام بخاری رحمہ اللہ کی کہ اسے باب ذکر معاویہ رضی اللہ عنہ میں کیوں نہیں لائے تو جاہل مقلدو امام بخاری رحمہ اللہ نے جب ذکر معاویہ رضی اللہ عنہ باب قائم کیا اس میں وہ وہی آحادیث لائیں ہیں جو صرف اور صرف سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت کر رہی تھیں
چونکہ اس سمندری جہاد والی حدیث سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ, ام حرام رضی اللہ عنہا و دیگر لوگ جو اس جنتی لشکر میں شامل تھے ان سب کی فضیلت بھی ثابت ہو رہی تھی اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے جہاد کے بیان باب میں درج کر دیا
کئی آحادیث ایسی ہیں جس سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے باب مناقب علی رضی اللہ عنہ میں ذکر نہیں کیا
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اصل چیز یے جنت کی بشارت ملنا بہت بڑی فضیلت یے جب یہ فضیلت یے تو صحیح بخاری میں یہ کہیں بھی درج ہو کوئی فرق نہیں پڑتا جس جس نے بھی پہلا سمندری جہاد کیا وہ اب جنتی ہیں یہ بشارت ان پر فٹ ہو گئی اور ان سب کی فضیلت بھی ثابت ہو گی تمہارا اب اس پر ماتم بیکار ہے
________________________________________________
⭕ پلمبری مرزائی وسوسہ نمبر 3⃣:
پلمبریوں کا امام مرزا جہلمی ایک حدیث بیان کرتا ہے کہ:
پہلے بحری لشکر کو جنت کی بشارت یہ کونسی فضیلت ہے حدیث میں تو یہ بھی ہے کہ جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔
جواب:
جو بھی مسلمان اسطرح دو رکعت پڑھے یعنی حالت نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھے، پورے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرے، اور نہ ہی دل میں کوئی دوسرا خیال لائے۔
اسکے لیے جنت واجب ہے
اب کیا کوئی کہ سکتا ہے کہ میں نے بلکل اسی طرح ہی نماز ادا کر لی ہے؟ کیا ہم اپنے بارے یا کسی کے بارے یہ دعوی کر سکتے ہیں کہ ہم نے اسطرح نماز پڑھ لی ہے اور ہماری یہ نماز قبول ہو چکی ہے کہ ہم پر اب جنت واجب یے
ہم ایسا دعوی نہیں کر سکتے نہ کسی کے متعلق یہ کنفرم کہ سکتے ہیں
لیکن دوسری طرف جو لشکر پہلا سمندری جہاد کرے گا انکے متعلق جنگ ہونے سے بہت سال پہلے ہی اللہ تعالی نے وحی کے ذریعے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بتا دیا کہ جو لشکر پہلا سمندری جہاد کرے گا انہوں نے اپنے اوپر جنت واجب کر لی یے
اور بلکل ویسے ہی ہوا سمندری جہاد ہوا اور اسی بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ یہ سارا لشکر جنتی ہے کیونکہ ان سب کے جنتی ہونے کی تصدیق اور گواہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی اور اللہ نے اپنی وحی کے ذریعے ہمیں پہلے ہی خبر دے دی تھی اپنے علم غیب سے کہ یہ لشکر جنتی ہے
کیا اب بھی شک کی کوئی گنجائش باقی یے؟
بلکہ یہی نہیں اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خواب میں دکھا دیا کہ اس لشکر کے افراد جنت میں تحتوں پر اسطرح بیٹھے ہوئے ہیں جیسے بادشاہ اپنے تحت پر بیٹھے ہوتے ہیں یعنی شان و شوکت کے ساتھ اور انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور وحی سے مراد اللہ کی بات ہوتی یے اور اللہ کے علم و بات میں شک کرنے والا پلمبری ہی ہو سکتا یے
________________________________________________
⭕ پلمبری مرزائی وسوسہ نمبر 4⃣:
پلمبریوں کا امام مرزا جہلمی پلمبر یہ بھی کہتا یے:
جو پہلا لشکر سمندر میں جہاد کرے گا اسے جنت کی خوشخبری و بشارت ہے یہ کوئی فضیلت نہیں ورنہ تو یہ بھی یے
"جو بندہ کلمہ پڑھ لیتا ہے وہ جنت میں جائے گا"
جواب:
ابے اندھے جاہل ملا جس نے بھی کلمہ پڑھ لیا وہ جنت میں جائے گا کیا گارنٹی ہے؟
اگر وہ کلمہ پڑھ لیتا یے تو کیا پتہ وہ کل کو مرتد ہو جائے
مثال کے طور پر شوکت ولد جاوید نے کلمہ پڑھ لیا یے
اب یہ یقینی جنتی ہی یے ہم نہیں کہ سکتے کیا پتہ کل کو یہ اسلام چھوڑ دے ایسے بے شمار واقعات ہیں
لیکن ہاں اگر شوکت ولد جاوید کلمہ پڑھ لے اور اللہ اپنی وحی سے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ بیان کروائے کہ:
شوکت ولد جاوید جس نے آج کلمہ پڑھا ہے اسکو جنت کی بشارت یے یا اسکی مغفرت ہو چکی
تو پھر ہم کنفرم کہیں گے کہ شوکت ولد جاوید جنتی ہے لوہے توڑ جنتی یے کیونکہ اب اس کے جنتی ہونے میں شک کی گنجائش ختم ہو چکی کیونکہ اللہ عالم الغیب ہے, اللہ نے اپنے غیب کے علم سے یہ خبر دی یے اور اللہ کو پتہ ہوگا شوکت ولد جاوید کی موت اسلام پر ہوگی تبھی کہا اسکی مغفرت ہو چکی اسے جنت کی بشارت ہے وہ جنتی ہے
یہ ہے فرق ایک عام شوکت ولد جاوید کے کلمہ پڑھنے میں اور اس شوکت ولد جاوید کے کلمہ پڑھنے میں جس کے لیے جنت کی بشارت بھی الگ سے آ گئی ہو
یعنی دو شوکت ولد جاوید ہیں دونوں نے کلمہ پڑھ لیا ہے
لیکن ایک کے متعلق ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر فرما دیں کہ مجھے اللہ نے وحی کی ہے کہ فلاں شوکت ولد جاوید کی مغفرت ہو چکی یے, وہ جنتی ہے, اسے جنت کی خوشخبری یے, اسے جنت کی بشارت یے تو اس شوکت ولد جاوید کا جنتی ہونا کنفرم اور لوہے توڑ ہے اس پر جنت واجب ہو گئی یے
تو ہم بھی یقینی کہیں گے یہ جنتی یے ہاں دوسرا جو شوکت ولد جاوید ہے جس متعلق ایسی کوئی بات موجود نہیں اسکا ہم کنفرم نہیں کہ سکتے اسکا علم اللہ کے پاس ہے
جبکہ دوسرے شوکت کے متعلق ہم کنفرم کہ سکتے ہیں کہ جنتی یے کیونکہ اللہ نے اسکی خبر اپنے علم سے ہی ہم تک پہنچا دی یے اور اللہ کی بات بھی سچی اللہ اپنے وعدے کا بھی سچا ہے
بلکل اسی طرح جو پہلا لشکر سمندر میں جہاد کرے گا انہوں نے اپنے اوپر جنت واجب کر لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنت میں بیٹھے دیکھا یہ سب اللہ نے وحی کی اپنے پیغمبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف
اس لیے اس سارے لشکر کا جنتی ہونا کنفرم/لوہے توڑ ثابت ہوا
اب اسکا انکار کرنے والا بشارت رسول ﷺ ہی کو جھٹلانے والا ہوگا
______________________


0 Comments