کتابُ سُلَیْم بْن قِیْس ہلالی شیخ ابو الکزاب سلیم بن قیس ہلالی عامری کوفی کی کتاب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب شیعوں کے بقول شیعہ کی پہلی قلمی کاوش تھی جسے امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے دور حکومت میں تالیف کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اہل بیتؑ کے فضائل، امام شناسی اور رحلت پیغمبر اکرمؐ کے بعد کے حوادث کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث پر مشتمل ہے۔شیعہ علماء نے اپنی کتب میں اس کتاب کی نسبت مشکوک قرار دی بلکہ بعض نے کہا یہ کتاب جھوٹ کا پلندہ ہے ۔۔کتاب ڈاون لوڈ لنک نیچے ہے
کتاب سلیم بن قیس ہلالی، جسے شیخ ابو الکزاب سلیم بن قیس ہلالی عامری کوفی نے تحریر کیا، اسلامی تاریخ اور حدیث کی اہم کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔ بعض روایات کے مطابق یہ کتاب شیعہ علماء کے نزدیک شیعہ کی پہلی قلمی کاوش تھی اور اس کی تالیف امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے دور حکومت میں ہوئی۔ کتاب میں اہل بیتؑ کے فضائل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور امام شناسی پر روشنی ڈالی گئی ہے، نیز پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد پیش آنے والے اہم تاریخی اور فقہی حوادث کی احادیث بھی شامل ہیں۔ اس تصنیف کی خاصیت یہ ہے کہ اس نے شیعہ مکتبہ فکر کے ابتدائی نظریات کو جمع کیا اور علمی تحقیق کے لیے ایک مستند حوالہ فراہم کیا۔ کتاب سلیم بن قیس ہلالی نہ صرف اہل علم کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے بلکہ تاریخ اسلام، احادیث اور اہل بیتؑ کی فضیلت کے مطالعے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، اور اس کی اہمیت آج بھی مسلم محققین کے لیے برقرار ہے۔
کتاب سلیم بن قیس ہلالی، جسے شیخ ابو الکزاب سلیم بن قیس ہلالی عامری کوفی نے تحریر کیا، اسلامی تاریخ اور حدیث کی ابتدائی تصانیف میں شمار کی جاتی ہے۔ یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ لفظ "ابوالکذاب" کا مطلب ہے "جھوٹا یا فریب دینے والا"، اور بعض محققین نے اس نسبت کو اسی تناظر میں استعمال کیا ہے کہ مصنف کی بعض احادیث یا واقعات کی سندیں معتبر نہیں اور مشکوک ہیں۔ بعض شیعہ علماء نے اس کتاب کی تصنیف پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اس میں شامل بعض احادیث تاریخی اعتبار سے غیر مستند ہیں، اور اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا، کیونکہ اس میں بہت سی وہ احادیث ہیں جو اہل بیتؑ کے فضائل اور پیغمبر اکرمؐ کے بعد کے حوادث کی وضاحت میں متنازعہ ہیں۔ اس کتاب کی مشکوک حیثیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مصنف نے بعض روایات کو بغیر مضبوط سند کے درج کیا اور بعض روایتیں دیگر معتبر مصادر سے متصادم ہیں۔ اس وجہ سے تاریخی اور فقہی تحقیق کرنے والے علماء اس کی سچائی پر احتیاط برتنے کی تاکید کرتے ہیں اور اسے مکمل معتبر کتاب شمار نہیں کرتے، اگرچہ اس نے شیعہ مکتبہ فکر کے ابتدائی نظریات کو جمع کرنے کا ایک دستاویزی کردار ادا کیا۔
.jpg)










.jpg)




0 Comments