صحیح مسلم 6220
کیا معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه سیدنا علی رضي الله عنه کو گالیاں دیتے یا دلواتے تھے؟
یہ تحریر اپنے پاس محفوظ کر لیں ہمیشہ کام آئے گی۔ ایک کہاوت ہے:
"سچ ہے، یہ آگ میں نہیں جلتا ہے اور پانی میں نہیں ڈوبتا ہے۔"
یعنی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ انسان کسی کو کتنا دھوکہ دینا چاہتا ہے اور چیزوں کی اصل حالت اس سے چھپا سکتا ہے، سچائی جلد یا بدیر ایک نہ ایک دن آپ کے سامنے آ کر رہے گی۔ جھوٹ، دھوکہ اور پروپیگنڈہ کوئی شک نہیں اس سے بے پناہ فائدہ ہو سکتا ہے لیکن یہ فائدہ مستقل نہیں ہوتا بلکہ کچھ عرصہ تک کے لیے ہوتا ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت حق کو شکست نہیں دے سکتی خواہ کچھ بھی ہو جائے یہ اللہ کا قانون ہے۔ اندھیرا چاہے کتنا ہی زور کیوں نہ لگا لے بالآخر جب وہ اپنی پوری قوت کا استعمال کر لینے کے بعد بے بس ہو جاتا ہے تو نہ صرف اسے سورج کے سامنے سے پسپا ہونا پڑتا ہے بلکہ سورج کی روشنی اسے ایسے پھاڑ کر نکلتی ہے کہ اندھیرے کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے اور ہر طرف روشنی ہی روشنی ہو جاتی ہے۔ قانون فطرت یعنی اللہ کا قانون یہ ہے کہ پہلے مخالف کو پورا موقع دیا جاتا ہے جب وہ اپنی پوری قوت لگا لے اس کے بعد اس کو اپنی قوت دکھائی جاتی ہے جس کا سامنا وہ نہیں کر سکتا۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف بھی اسی طرح کی پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی اور انکو بدنام کرنے کے لیے صحیح مسلم حدیث نمبر 6220 میں دو جملوں پر تحریف اور بددیانتی سے کام لے کر لوگوں کو دھوکہ دیا گیا ہے۔
1- امر معاویۃ میں ترجمہ کا اختلاف بھی ملحوظ نہیں رکھا گیا اور اس سے مراد بھی غلط لیا گیا۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں عربی گرائمر کے اعتبار سے:
1- أَمَّرَ (میم مشدد) معاویۃُ جس کا ترجمہ ہے معاویہ رضی اللہ عنہ نے امیر مقرر کیا
2- أَمَرَ معاویۃُ جس کا ترجمہ ہے معاویہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا
پہلے ترجمہ پر تو کوئی اشکال نہیں لیکن دوسرے ترجمہ میں تحریف کر کے کہا جاتا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ پر سبّ کرنے کا حکم دیا۔ یہ حدیث کے اندر واضح تحریف ہے۔ اس حدیث میں یا بقیہ ذخیرہ احادیث میں ان الفاظ کے ساتھ کہ "معاذ اللہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ پر سبّ کرنے کا حکم دیا" ایسی کوئی بات کسی بھی حدیث کے اندر مذکور نہیں۔
دوسرا اعتراض اس حدیث کے اگلے جملے "ما منعک ان تسبَّ ابا التراب" ہے۔ عربی لفظ "سب" کا ترجمہ گالیاں کیا گیا اور اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی جس کی وجہ سے کئی لوگ اس پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے کہ سیدنا معاویہؓ تو سیدنا علیؓ کو گالیاں دلواتے تھے۔ اس پروپیگنڈے سے عوام کو نکالنے کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ عربی لفظ "سب" کے معانی صرف گالی نہیں ہوتا بلکہ اس کے کئی اور معانی بھی ہیں، جیسے:
-
سب کا معانی ڈانٹنا
-
سب کا معانی موقف پر تنقید
-
سب کا معانی کسی بات پر اختلاف
-
سب کا معانی عار دلانا بھی ہوتا ہے
کہاں کونسا معانی استعمال ہوگا اس کے لیے ہمیں واقعہ کا سیاق و سباق دیکھنا پڑے گا، پھر ہی سب کا ترجمہ کریں گے۔ ورنہ اگر ہر جگہ سب کا ترجمہ گالیاں کر دیا جائے تو ایسی روایات بھی ہیں جہاں سب کا ترجمہ گالیاں کرنے پر ہم ایمان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
دلیل نمبر 1
صحیح مسلم 5947 میں آتا ہے:
"فَسَبَّهُمَا" النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
دو افراد پر ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے "سب" کیا۔ اب یہاں کیا کوئی سب کا معانی گالیاں کر سکتا ہے؟ نہیں بلکہ واقعہ یوں ہے کہ نبی ﷺ نے تبوک کے سفر پر حکم دیا تھا کہ جو کوئی بھی اگر تبوک کے پانی کے چشمے پر سب سے پہلے پہنچے تو پانی کو ہاتھ نہیں لگانا جب تک میں نہ آ جاؤں۔ لیکن ہوا یوں کہ دو افراد جو وہاں سب سے پہلے پہنچے انہوں نے پانی کو ہاتھ لگا دیا، پھر جب نبی ﷺ تشریف لائے تو آپ نے ان دو افراد سے کہا کہ کیا تم نے پانی کو ہاتھ لگایا؟ انہوں نے جواب دیا ہاں تو آپﷺ نے ان دونوں پر "سب" کیا۔ اب یہاں کوئی سب کا معانی گالی کرے گا یا لعنت کرے گا؟ ہرگز نہیں، بلکہ ظاہر سی بات ہے ان دو افراد کو جو برا بھلا کہا سب کیا آپﷺ نے وہ یہی سب ہوگا کہ تنقید کی ہوگی، ڈانٹ دیا ہوگا، اور انہیں اپنی اصلاح کا کہا ہوگا۔
دلیل نمبر 2
-
صحیح بخاری حدیث نمبر 7305 میں آتا ہے: "اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ الظَّالِمِ"، اسْتَبَّا
سیدناعلیؓ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما دونوں نے ایک دوسرے پر سب کر رہے تھے۔
-
صحیح بخاری حدیث نمبر 4033 میں مزید واضح الفاظ ہیں: "فَاسْتَبَّ عَلِيٌّ , وَعَبَّاسٌ"
اب کیا کوئی یہاں ترجمہ کرے گا کہ دونوں ایک دوسرے پر لعنت بھیج رہے تھے اور گالیاں دے رہے تھے؟ نہیں، صحیح مسلم 6220 میں بھی سب کا مطلب موقف پر اختلاف اور تنقید ہے۔
سیدنا عباسؓ اور سیدنا علیؓ کا واقعہ بھی کچھ یوں ہے کہ باغ فدک کے مسئلے پر اختلاف شدید ہو گیا، تو فیصلہ امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا، جہاں دونوں ایک دوسرے کے موقف پر تنقید کر رہے تھے اور ایک دوسرے کے موقف کا رد کر رہے تھے۔
دلیل نمبر 3
صحیح بخاری 6141 میں آتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے اور انہوں نے اپنے گھر والوں پر "سب" کیا۔ واقعہ یوں ہے کہ گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا مہمانوں کو کھانا کھلا دیا؟ گھر والوں نے کہا نہیں، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں "سب" کیا، یعنی تنقید اور ڈانٹنا، نہ کہ گالی دینا۔
دلیل نمبر 4
-
صحیح بخاری 2411: "اسْتَبَّ رَجُلاَنِ رَجُلٌ مِنَ المُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ اليَهُودِ"
-
صحیح مسلم 4659: "فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ"
یہاں بھی سب کا مطلب موقف پر اختلاف یا تنقید ہے۔
دلیل نمبر 5
صحیح بخاری حدیث 6361: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی "اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"
یہاں بھی سب کا مطلب برا بھلا کہنا نہیں بلکہ موقف کی تنقید ہے۔
دلیل نمبر 6
صحیح بخاری 989: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے بلال کو سب کیا، واقعہ میں مراد ڈانٹنا اور نصیحت کرنا تھا۔
دلیل نمبر 7
صحیح مسلم 4664: محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے جب کعب بن اشرف سے قرض مانگا تو اس نے کہا اپنی اولاد گروی رکھوا دو، محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: "ہماری اولاد کو عار دلائی جائے گی"، یعنی سب کا مطلب شرم دلانا یا طعنہ دینا تھا، نہ کہ گالی دینا۔
صحیح مسلم 6220 میں بھی یہی بات ہے کہ قصاص عثمان کے مسئلے پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے موقف سے اختلاف کیوں نہیں کرتے۔
مرزا نے صرف صحیح مسلم 6220 میں ہی نہیں بلکہ صحیح مسلم 6488 میں بھی تحریف کر کے لفظ "سب" کا غلط مطلب گالیاں لگانا بتایا۔ حقیقت میں، سیدنا خالد بن ولید اور عبدالرحمن بن عوف کے درمیان جھگڑا ہوا تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے صرف ان کے الفاظ پر جواب دیا، گالی نہیں دی۔
یہ تمام مثالیں واضح طور پر صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے دی گئی ہیں، جو ثابت کرتی ہیں کہ لفظ "سب" کا اصل مطلب موقف پر اختلاف، تنقید یا نصیحت ہے، نہ کہ گالیاں دینا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف پروپیگنڈہ سے اپنی پناہ میں رکھے، آمین۔
0 Comments