حجۃ الدین اِمام محمد بن ظفر المکی (497۔ 565ھ)
حجۃ الدین اِمام ابو عبد الله محمد بن عبد الله بن ظفر المکی (1104۔ 1170ء) کہتے ہیں کہ الدر المنتظم میں ہے:
وقد عمل المحبون للنبي ﷺ فرحاً بمولده الولائم، فمن ذلک ما عمله بالقاهرة المعزّية من الولائم الکبار الشيخ أبو الحسن المعروف بابن قُفل قدّس الله تعالي سره، شيخ شيخنا أبي عبد الله محمد بن النعمان، وعمل ذلک قبلُ جمال الدين العجمي الهمذاني. وممن عمل ذلک علي قدر وسعه يوسف الحجّار بمصر، وقد رأي النبي ﷺ وهو يحرّض يوسف المذکور علي عمل ذلک.
’’اہلِ محبت حضور ﷺ کے میلاد کی خوشی میں دعوتِ طعام منعقد کرتے آئے ہیں۔ قاہرہ کے جن اَصحابِ محبت نے بڑی بڑی ضیافتوں کا انعقاد کیا ان میں شیخ ابو الحسن بھی ہیں جو کہ ابن قفل قدس الله تعالیٰ سرہ کے نام سے مشہور ہیں اور ہمارے شیخ ابو عبد اللہ محمد بن نعمان کے شیخ ہیں۔ یہ عمل مبارک جمال الدین عجمی ہمذانی نے بھی کیا اور مصر میں سے یوسف حجار نے اسے بہ قدرِ وسعت منعقد کیا اور پھر انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو (خواب میں) دیکھا کہ آپ ﷺ یوسف حجار کو عملِ مذکور کی ترغیب دے رہے تھے۔‘‘
صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد ﷺ ، 1: 363
شیخ معین الدین عمر بن محمد المَلّا (م 570ھ)
وکان أول من فعل ذلک بالموصل الشيخ عمر بن محمد المَ. لّا أحد الصالحين المشهورين، وبه اقتدي في ذلک صاحب إربل وغيره رحمهم الله تعالي.
’’اور شہر موصل میں سب سے پہلے میلاد شریف کا اِجتماع منعقد کرنے والے شیخ عمر بن محمد مَلّا تھے جن کا شمار مشہور صالحین میں ہوتا تھا۔ اور شاہِ اِربل و دیگر لوگوں نے اُنہی کی اِقتداء کی ہے۔ الله اُن پر رحم فرمائے۔‘‘
1. أبوشامة، الباعث علي إنکار البدع والحوادث: 24
2. صالحي، سبل الهديٰ والرشاد في سيرة خير العباد ﷺ ، 1: 365
علامہ اِبن جوزی (510۔ 579ھ)
عبد الرحمٰن بن علی بن جوزی (1116۔ 1201ء) کثیر کتب کے مصنف تھے۔ اُنہوں نے میلادالنبی ﷺ پر دو کتب تالیف کیں:
1. بيان الميلاد النبوي ﷺ
2. مولد العروس
علامہ ابن جوزی بیان المیلاد النبوي ﷺ میں فرماتے ہیں:
لا زال أهل الحرمين الشريفين والمصر واليمن والشام وسائر بلاد العرب من المشرق والمغرب يحتفلون بمجلس مولد النبي ﷺ ، ويفرحون بقدوم هلال شهر ربيع الأول ويهتمون اهتمامًا بليغًا علي السماع والقراة لمولد النبي ﷺ ، وينالون بذالک أجرًا جزيلاً وفوزًا عظيمًا.
’’مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ، مصر، شام، یمن الغرض شرق تا غرب تمام بلادِ عرب کے باشندے ہمیشہ سے میلادالنبی ﷺ کی محفلیں منعقد کرتے آئے ہیں۔ وہ ربیع الاول کا چاند دیکھتے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہتی۔ چنانچہ ذکرِ میلاد پڑھنے اور سننے کا خصوصی اہتمام کرتے اور اس کے باعث بے پناہ اَجر و کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔‘‘
ابن جوزي، بيان الميلاد النبوي ﷺ: 58
علامہ ابن جوزی مولد العروس میں فرماتے ہیں:
وجعل لمن فرح بمولده حجابًا من النار وسترًا، ومن أنفق في مولده درهمًا کان المصطفيٰ ﷺ له شافعًا ومشفعًا، وأخلف الله عليه بکل درهم عشرًا.
فيا بشري لکم أمة محمد لقد نلتم خيرًا کثيرًا في الدنيا وفي الأخري. فيا سعد من يعمل لأحمد مولدًا فيلقي الهناء والعز والخير والفخر، ويدخل جنات عدن بتيجان درّ تحتها خلع خضرًا.
’’اور ہر وہ شخص جو آپ ﷺ کے میلاد کے باعث خوش ہوا، الله تعالیٰ نے (یہ خوشی) اس کے لیے آگ سے محفوظ رہنے کے لیے حجاب اور ڈھال بنادی۔ اور جس نے مولدِ مصطفیٰ ﷺ کے لیے ایک درہم خرچ کیا تو آپ ﷺ اُس کے لیے شافع و مشفع ہوں گے۔ اور الله تعالیٰ ہر درہم کے بدلہ میں اُسے دس درہم عطا فرمائے گا۔
’’اے اُمتِ محمدیہ! تجھے بشارت کہ تونے دنیا و آخرت میں خیر کثیر حاصل کی۔ پس جو کوئی احمد مجتبیٰ ﷺ کے میلاد کے لیے کوئی عمل کرتا ہے تو وہ خوش بخت ہے اور وہ خوشی، عزت، بھلائی اور فخر کو پالے گا۔ اور وہ جنت کے باغوں میں موتیوں سے مرصع تاج اور سبز لباس پہنے داخل ہوگا۔‘‘
ابن جوزي، مولد العروس: 11
علامہ ابن جوزی شاہِ اِربل مظفر ابو سعید کو کبری کی طرف سے بہت بڑے پیمانے پر میلاد شریف منائے جانے اور اس پر خطیر رقم خرچ کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں:
لولم يکن في ذلک إلا إرغام الشيطان وإدعام أهل الإيمان.
’’اِس نیک عمل میں سوائے شیطان کو ذلیل و رُسوا کرنے اور اہل ایمان کو تقویت پہنچانے کے کچھ نہیں۔‘‘
صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد ﷺ ، 1: 363
حافظ ابو الخطاب بن دحیہ کلبی (544۔ 633ھ)
قاضی القضاۃ ابو العباس شمس الدین احمد بن محمد بن ابی بکر بن خلکان اپنی کتاب ’’وفیات الاعیان وانباء ابناء الزمان (3: 448۔ 450)‘‘ میں حافظ ابو الخطاب بن دحیہ کلبی (544۔ 633ھ) کے سوانحی خاکہ میں لکھتے ہیں:
کان من أعيان العلماء، ومشاهير الفضلاء، قدم من المغرب، فدخل الشام والعراق، واجتاز بإربل سنة أربع وستمائة، فوجد ملکها المعظم مظفر الدين بن زين الدين يعتني بالمولد النبوي، فعمل له کتاب ’’التنوير في مولد البشير النذير‘‘ وقرأه عليه بنفسه، فأجازه بألف دينار. قال: وقد سمعناه علي السلطان في ستة مجالس، في سنة خمس وعشرين وستمائة.
’’ان کا شمار بلند پایہ علماء اور مشہور محققین میں ہوتا تھا۔ وہ مراکش سے شام اور عراق کی سیاحت کے لیے روانہ ہوئے۔ 604ھ میں ان کا گزر اِربل کے علاقے سے ہوا جہاں ان کی ملاقات عظیم المرتبت سلطان مظفر الدین بن زین الدین سے ہوئی جو یوم میلادالنبی ﷺ کے انتظامات میں مصروف تھا۔ اس موقع پر انہوں نے ’’التنویر فی مولد البشیر النذیر‘‘ کتاب لکھی۔ انہوں نے یہ کتاب خود سلطان کو پڑھ کر سنائی۔ پس بادشاہ نے ان کی خدمت میں ایک ہزار دینار بطور انعام پیش کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے 625ھ میں سلطان کے ساتھ اسے چھ نشستوں میں سنا تھا۔‘‘
1. سيوطي، حسن المقصد في عمل المولد: 44، 45
2. سيوطي، الحاوي للفتاوي: 200
3. نبهاني، حجة الله علي العالمين في معجزات سيد المرسلين ﷺ: 236، 237
حافظ شمس الدین الجزری (م 660ھ)
شیخ القراء حافظ شمس الدین محمد بن عبد الله الجزری الشافعی (م 1262ء) اپنی تصنیف ’’عرف التعریف بالمولد الشریف‘‘ میں لکھتے ہیں:
وقد رؤي أبولهب بعد موته في النوم، فقيل له: ما حالک؟ فقال: في النار، إلا أنه يخفّف عني کل ليلة اثنين، وأمص من بين أصبعي هاتين ماء بقدر هذا. وأشار برأس إصبعه. وإن ذلک بإعتاقي لثويبة عند ما بشرتني بولادة النبي ﷺ و بإرضاعها له.
فإذا کان أبولهب الکافر الذي نزل القرآن بذمه جوزيَ في النار بفرحه ليلة مولد النبي ﷺ به، فما حال المسلم الموحد من أمة النبي ﷺ يسر بمولده، وبذل ما تصل إليه قدرته في محبته ﷺ ؟ لعمري إنما يکون جزاؤه من الله الکريم أن يدخله بفضله جنات النعيم.
’’ابولہب کو مرنے کے بعد خواب ميں دیکھا گیا تو اس سے پوچھا گیا: اب تیرا کیا حال ہے؟ کہنے لگا: آگ میں جل رہا ہوں، تاہم ہر پیر کے دن میرے عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے۔ اُنگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ (ہر پیر کو) میری ان دو انگلیوں کے درمیان سے پانی (کا چشمہ) نکلتا ہے جسے میں پی لیتا ہوں اور یہ تخفیفِ عذاب میرے لیے اس وجہ سے ہے کہ میں نے ثویبہ کو آزاد کیا تھا جب اس نے مجھے محمد ( ﷺ ) کی ولادت کی خوش خبری دی اور اس نے آپ کو دودھ بھی پلایا تھا۔
’’حضور نبی اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر خوشی منانے کے اَجر میں اُس ابولہب کے عذاب میں بھی تخفیف کر دی جاتی ہے جس کی مذمت میں قرآن حکیم میں ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے۔ تو اُمت محمدیہ کے اُس مسلمان کو ملنے والے اَجر و ثواب کا کیا عالم ہوگا جو آپ ﷺ کے میلاد کی خوشی مناتا ہے اور آپ ﷺ کی محبت و عشق میں حسبِ اِستطاعت خرچ کرتا ہے؟ خدا کی قسم! میرے نزدیک الله تعالیٰ ایسے مسلمان کو اپنے محبوب ﷺ کی خوشی منانے کے طفیل اپنی نعمتوں بھری جنت عطا فرمائیں گے۔‘‘
1. سيوطي، الحاوي للفتاوي: 206
2. سيوطي، حسن المقصد في عمل المولد: 65، 66
3. قسطلاني، المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1: 147
4. زرقاني، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1: 260، 261
5. صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد ﷺ ، 1: 366، 367
6. نبهاني، حجة الله علي العالمين في معجزات سيد المرسلين ﷺ: 237، 238
آپ مزید لکھتے ہیں:
من خواصه أنه أمان في ذلک العام، وبشري عاجلة بنيل البغية والمرام.
’’(محافلِ میلاد شریف کے) خواص میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس سال میلاد منایا جائے اُس سال امن قائم رہتا ہے، نیز (یہ عمل) نیک مقاصد اور دلی خواہشات کی فوری تکمیل میں بشارت ہے۔‘‘
صالحي، سبل الهديٰ والرشاد في سيرة خير العباد ﷺ ، 1: 365، 366
اِمام ابو شامہ (599۔ 665ھ)
اِمام نووی (631۔ 677ھ / 1233۔ 1278ء) کے شیخ امام ابو شامہ عبد الرحمان بن اسماعیل (1202۔ 1267ء) اپنی کتاب الباعث علی انکار البدع والحوادث میں لکھتے ہیں:
ومن أحسن ما ابتدع في زماننا من هذا القبيل ما کان يفعل بمدينة إربل، جبرها الله تعالي، کل عام في اليوم الموافق ليوم مولد النبي ﷺ من الصدقات والمعروف وإظهار الزينة والسرور، فإن ذالک مع ما فيه من الإحسان إلي الفقراء مُشعِر بمحبة النبي ﷺ ، وتعظيمه وجلالته في قلب فاعله وشکر الله تعالي علي ما مَنّ به من إيجاد رسوله الذي أرسله رحمةً للعالمين ﷺ وعلي جميع الأنبياء والمرسلين.
’’اور اِسی (بدعتِ حسنہ) کے قبیل پر ہمارے زمانے میں اچھی بدعت کا آغاز شہر ’’اِربل‘‘ خدا تعالیٰ اُسے حفظ و امان عطا کرے۔ میں کیا گیا۔ اس بابرکت شہر میں ہر سال میلادالنبی ﷺ کے موقع پر اِظہارِ فرحت و مسرت کے لیے صدقات و خیرات کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اس سے جہاں ایک طرف غرباء و مساکین کا بھلا ہوتا ہے وہاں حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی کے ساتھ محبت کا پہلو بھی نکلتا ہے اور پتہ چلتا ہے کہ اِظہارِ شادمانی کرنے والے کے دل میں اپنے نبی ﷺ کی بے حد تعظیم پائی جاتی ہے اور ان کی جلالت و عظمت کا تصور موجود ہے۔ گویا وہ اپنے رب کا شکر ادا کر رہا ہے کہ اس نے بے پایاں لطف و احسان فرمایا کہ اپنے محبوب رسول ﷺ کو (ان کی طرف) بھیجا جو تمام جہانوں کے لیے رحمتِ مجسم ہیں اور جمیع انبیاء و رُسل پر فضیلت رکھتے ہیں۔‘‘
1. ابوشامه، الباعث علي إنکار البدع والحوادث: 23، 24
2. صالحي، سبل الهديٰ والرشاد في سيرة خير العباد ﷺ ، 1: 365
3. حلبي، إنسان العيون في سيرة الأمين المامون، 1: 84
4. احمد بن زيني دحلان، السيرة النبوية، 1: 53
5. نبهاني، حجة الله علي العالمين في معجزات سيد المرسلين ﷺ: 233
شیخ ابو شامہ شاہِ اِربل مظفر ابو سعید کو کبری کی طرف سے بہت بڑے پیمانے پر میلاد شریف منائے جانے اور اس پر خطیر رقم خرچ کیے جانے کے بارے میں اُس کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
مثل هذا الحسن يُندب إليه ويُشکر فاعله ويُثني عليه.
’’اِس نیک عمل کو مستحب گردانا جائے گا اور اِس کے کرنے والے کا شکریہ ادا کیا جائے اور اِس پر اُس کی تعریف کی جائے۔‘‘
صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد ﷺ ، 1: 363
ٓ


.jpg)














0 Comments