امام اعمشؒ سے مروی حدیث توسل و استغاثہ پر امن پوری صاحب کا امام ابن حجر عسقلانی کے حوالے سے ادھورا موقف بیان کرنے پر رد
ازقلم: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی
امن پوری صاحب اپنی تصنیف ''تبرکات کی شرعی حیثیت میں صفحہ نمبر ۲۲۹] پر مذکورہ روایت کو نقل کرتے ہیں
امام ابن ابی شیبہ اپنی مصنف میں روایت با سند روایت کرتے ہیں :
'حدثنا ابو معاویة ،عن الاعمش ،عن ابی صالح ،عن مالک دار قال: وکان خازن عمر علی الطعام اصاب الناس قحط فی زمن عمرفجاء رجل الی قبرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ; استسق الامتک فانھم قدھلکوا فاتی الرجل فی المنام فقیل لہ ائت عمر فاقرئہ السلام واخبرہ انکم ومسقیون ،و قل لہ:علیک الکیس :علیک الکیس فاتی عمرفاخبرہ عمر،ثم قال : یارب لا الوالا عجزت عنہ
حضرت عمر کے زمانے میں لوگ قحط میں مبتلا ہوئے پھر ایک شخص حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر آیا اور عرض کیا :** یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنی امت کے لئے سیرابی مانگئے کیونکہ وہ ہلاک ہو رہی ہے** پھر خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ **عمر کے پاس جاکر اسے میرا سلام کہو** اور اسے بتائو کے تم سیراب کئے جائو گے اور عمر سے کہدو عقلمندی اختیار کرو؛ عقلمندی اختیار کرو**پھر وہ شخص عمر کے پاس آیا اور انھیں خبر دی تو حضرت عمر رو پڑے اور فرمایا : اے اللہ میں کوتاہی نہیں کرتا مگر یہ کہ عاجز ہو جائوں**
[مصنف ابن ابی شیبہ ، برقم:۳۲۵۳۸]
مذکورہ روایت پر امن پوری صاحب نے متقدمین سے پہلے تدلیس اور عنعنہ روایت پر محدثین سے تصریحات پیش کی جسکا انکار نہیں لیکن امام اعمش کے حوالے سے محدثین کے امام اعمش کے حوالے سے بیان کیے گئے استثنائی احکام کو یکسر نظر انداز کیا خاص کر امام ابن حجر عسقلانی سے امام اعمش کی تدلیس کے تعلق سے انکی تلخیصر الحبیر جو کہ شروعاتی دور کی لکھی ہوئی ہے اس سے عمومی اصول اور امام اعمش کو مدلس ثابت کرنا لکھ کر جان چھڑا دی گئی جبکہ انکی آخری ادوار کی لکھی گئی کتب میں انکے بیان کیے گئے استثناء اور خاص کر مذکورہ روایت کی امام ابن حجر عسقلانی سے تصحیح کو ذکر ہی نہیں کیا گیا ۔
جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی ھدی الساری مقدمہ فتح الباری میں فرماتے ہیں :
أبو معاوية هو محمد بن خازم بمعجمتين عن الأعمش سليمان بن مهران عن أبي صالح ذكوان تكرر كثيرا وهو من أصح الأسانيد
امام ابو معاویہ عن امام اعمش عن امام ابو صالح ذکوان کے سند طریق سے (امام بخاری نے اپنی صحیح ) میں تکرار کے ساتھ بہت زیادہ روایت کیا ہے اور یہ صحیح طرین اسانید ہیں (امام بخاری ) کی !
[ھدی الساری مقدمہ فتح الباری ، ص ۲۶۰]
یعنی امام ابن حجر عسقلانی نے امام اعمش کی امام ابو صالح سے عنعنہ روایت کو سب سے صحیح ترین سند قرار دی ہے امام بخاری کی اور یہ استثناء کیوں ہے ؟ اسکی اصل امام ذھبی سے موجود ہے
جیسا کہ امام ذھبی میزان میں فرماتے ہیں :
عن تطرقه الیه احتمال التدلیس الا فی شیوخ له اکثر عنھم: کا ابراھیم ، وائل، و ابی صالح السمان ، فان روایة عن ھذا الصنف محموله علی الاتصال۔
جب امام الاعمش عن سے روایت کرتے ہیں تو تدلیس کا احتمال ہوتا ہے لیکن انکے وہ کبار شیوخ جن سے یہ اکثر روایت کرتے ہیں جیسے ابراھیم ، وائل اور مالک السمان ان سے الاعمش کی عنعنہ روایت سماع پر محمول ہوگی
[میزان الاعتدال]
امام ذھبی کا یہ فیصلہ اصول محدثین کے مطابق بالکل صحیح ہے کیونکہ ایسا مدلس جو اپنے کسی شیخ سے روایت کرنے میں اوثق ہو یا کثیر الروایت ہو تو اس مدلس کا اپنے اس مخصوص شیخ جس سے وہ سب سے زیادہ روایت کرتا ہے یا اسکی روایات کا سماع بقیہ تلامذہ سے زیادہ ہوتا ہے تو اس میں تدلیس کا احتمال بالکل ختم ہو جاتا ہے کیونکہ وہ خود اپنے شیخ کی روایات کا سب سے بڑا حافظ ہوتا ہے تو اسکو تدلیس کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی ہے
اسکی وجہ خودامام ذھبی نے نقل کی ہوئی ہے سیر اعلام میں جیسا کہ امام ذھبی نقل کرتے ہیں :
وَرَوَى: أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ:سَمِعْتُ مِنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ أَلْفَ حَدِيْثٍ.
اور روایت کیا ہے ابو خالد احمر نے امام اعمش سے : وہ کہتے ہیں میں نے اپنے شیخ ابو صالح السمان سے ایک ہزار روایات سماع کی ہیں
[سیر اعلام النبلاء ، ج۵، ص۳۶]
کوئی اس قول کی سند کا بہانہ بنائے تو یہ قول امام احمد سے انکے بیٹے نے سند صحیح سے نقل کیا ہوا ہے العلل میں
قال عبد الله: حدثني محمد بن عبد الله بن نمير. قال: سمعت أبا خالد الأحمر يقول: سمعت الأعمش يقول: سمعت من أبي صالح ألف حديث.
[العلل (2910 و5588)]
تو اسکے بعد اصولا یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ امام اعمش کی ابو صالح سے روایت سب سے اصح ہوتی ہے اور تدلیس کا احتمال بالکل نہیں ہوتا ہے
نیز امام ابن حجر عسقلانی نے اس سبب فتح الباری میں مذکورہ روایت کی تصحیح کی ہے جسکو ذکر نہ کرنے میں بھلائی سمجھی امن پوری صاحب نے اور امام ابن حجر عسقلانی کی شروعاتی دور کی کتاب سے عمومی تدلیس کا حوالہ دینے میں عافیت سمجھی
جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی مذکورہ روایت کے بارے فتح الباری میں نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
ہیں رواح ابن ابی شیبہ با اسناد صحیح
یعنی امام ابن ابی شیبہ نے اسکو با سند صحیح روایت کیا ہے
[فتح الباری برقم حدیث :۱۰۱۰]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلاصہ تحقیق:
امام اعمش عمومی طور پر مدلس ہیں اور انکی عنعنہ روایت مقبول نہ ہوگی بغیر سماع کی تصریح کے لیکن اپنے تین شیوخ جنکی روایات کے یہ سب سے بڑے حافظ تھے اور سب سے زیادہ روایت کرنے والے تھے جن میں سے ایک ابو صالح السمان تھے ان سے جب یہ روایت کرینگے تو انکی روایت میں تدلیس کا احتمال نہیں ہوگا
اور یہی وجہ ہے کہ غیر مقلدین حضرات کے محقق راشدی صاحب بھی غیر مقلدین کے اس موقف کا رد کرتے ہوئے امام ذھبی کے اصول سے موافقت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
صحیین کے سوائے جو سنن اربعہ میں مسانید اور دوسرے دواین حدیث میں بہ سی حدیثیں اعمش عن ابی صالح عن ابی ھریرہ موجود ہیں ان کے مصنفین اور انکے شراح نے ان احادیث کی تصحیح فرمائی ہے ۔اگر اعمش ابو صالح سے بھی تدلیس کرتا تھا تو یہ کبا رائمہ حدیث ان احادیث کی تصیح نہ فرماتے ا س سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ائمہ حدیث کے ہاں یہ بات حتمی تھی کہ اعمش ابو صالح سے تدلیس نہیں کرتے تھے ۔ اس کے بعد دیکھیں علما عصر بھی اس سند کو صحیح قرار دیتے ہیں الخ ۔۔۔۔۔۔
پھر وہ علامہ شاکر حنفی اور دودیگر کی مثالیں دیتے ہیں
پھر آگے لکھتےہیں کہ میرا موقف وہی ہے جو امام ذھبی کا ہے کہ الاعمش جب اپنے کبار شیوخ سے عنعنہ روایت کرینگے تو وہ اتصال پر محمول ہوگا
[مقالات راشدیہ صفح۳۳۱ تا ۳۳۸]
معلوم ہوا کہ مذکورہ روایت پر فقط اعمش کی تدلیس کو بطور علت بیان کرکے اس روایت کو رد کرنا امن پوری صاحب کی فحش خطاء اور ائمہ محدثین کی بیان کردہ استثنائی تصریحات کے خلاف ہے
0 Comments